آسام میں نیلی کا قتل عام سب بھول گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آسام کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کی رنگا رنگ نسلوں پر مشتمل اس کی آبادی ہے

بھارت کی ریاست آسام کی 126 رکنی اسمبلی میں سے 65 حلقوں میں انتخابات کے پہلے مرحلےمیں چار اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

سنیچر کی شام ان حلقوں میں انتخابی مہم اپنے اختتام کو پہنچی۔ ریاست میں کانگریس مسلسل 15 برس سے اقتدار میں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہاں ’پریورتن‘ یعنی ’تبدیلی‘ کا نعرہ دیا ہے۔

آسام شمال مشرقی ریاستوں میں سیاسی اعتبار سے سب سے اہم ریاست ہے۔ یہ ریاست خوبصورت پہاڑوں، زرخیز زمینوں، دریاؤں ندیوں اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہاں کی آبادی بھی کم ہے۔

اس ریاست کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کی رنگا رنگ نسلوں پر مشتمل اس کی آبادی ہے۔ یہاں اہوم بھی آباد ہیں اور بوڈو بھی، کاربی بھی ہیں تو کھاسی بھی۔ یہاں بڑی تعداد میں بنگالی بھی ہیں اور بہاری بھی۔ یہ الگ الگ نسلوں کے لوگ گزرے ہوئے عشروں میں الگ الگ حالات میں ریاست میں بستےچلے گئے۔ وقت کےساتھ ساتھ وہ بھی اسی ریاست کے ہوگئے۔ ان میں سےبہت سے نسلی گروہوں نے اپنی روایات اور ثقافت کےساتھ ساتھ آسام کی ثقافت اور بول چال بھی اپنا لی۔

آسام بھی شمال مشرق کی دوسری ریاستوں کی طرح ایک پسماندہ ریاست ہے ۔ دہلی کی مرکزی حکومت نے آزادی کے بعد سے ہی شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ تفریق برتی جس کےسبب وہ ترقی اور صنعتکاری میں ملک کی دوسری ریاستوں کے مقابلے کافی پیچے رہ گئیں۔

جو وسائل تھے وہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ناکافی ہونے لگے۔ نئی نسل سیاسی تمناؤں اور امنگوں کے ساتھ پروان چڑھ رہی تھی۔ غربت اور پسماندگی نے کئی قبائلی گروہوں کو اپنے حق کے حصول کے لیے مسلح تحریک کی جانب دھکیل دیا۔ مسائل کا سیاسی حل نہ نکلنے کے سبب محرومی اور غربت کا شکار یہ گروپ ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہو گئے۔

ایسی ہی ایک تحریک سنہ 1980 کےعشرے میں بنگالی بولنے والی آبادی کے خلاف چلی تھی۔ آسام میں لاکھوں بنگالی عشروں سے آباد ہیں۔ وہ ریاست کے طول و ارض میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کا آبائی پیشہ زراعت ہے۔ آسام کی سرحد بنگلہ دیش سے ملی ہوئی ہے۔ وہاں سے بھی بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکیں وطن آسام آتے رہے ہیں۔

غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف تحریک کے دوران فروری سنہ 1983 میں ہزاروں قبائلیوں نے نیلی خطے کے بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے درجنوں گاؤں کا محاصرہ کر لیا اور سات گھنٹے کے اندر دو ہزار سے زیادہ بنگالی مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا۔ غیر سرکاری طور پر یہ تعداد تین ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیلی کےاس قتل عام میں ریاست کی پولیس اور سرکاری مشینری پر بھی حصہ لینے کا الزام لگا تھا

نیلی کےاس قتل عام میں ریاست کی پولیس اور سرکاری مشینری پر بھی حصہ لینے کا الزام لگا تھا۔ حملہ آور قبائلی بنگالی مسلمانوں سے ناراض تھے کیونکہ انھوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا نعرہ دیا تھا اور بنگالیوں نے الیکشن میں ووٹ ڈالا تھا۔

يہ آزاد بھارت کا اس وقت تک کا سب سے بڑا قتل عام تھا۔ ہلاک ہونے والوں کے رشتے داروں کو معاوضے کےطور پر پانچ، پانچ ہزارروپے دیے گئے تھے۔

نیلی کے قتل عام کے لیے ابتدائی طور پر کئی سو رپورٹیں درج کی گئی تھیں۔ کچھ لوگ گرفتار بھی ہوئے لیکن ملک کے سب سے بہیمانہ قتل عام کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا تو ایک طرف ان کے خلاف مقدمہ بھی نہیں چلا۔

بنگالی مخالف تحریک کے بعد جو حکومت اقتدار میں آئی اس نے ایک معاہدے کےتحت نیلی کے سارے مقدمات واپس لے لیے۔

نیلی کے بعد بھی آسام میں کئی اور قتل عام ہو ئے۔ حکومت نے قبائلی بے چینی اور ٹکراؤ پر قابو پانےکے لیے ان کے غلبے والے علاقوں میں الگ الگ قبائلی خودمختار کونسلیں بنا دی ہیں۔ ریاست کے بنگالی شہریوں کے لیے غیر قانونی بنگلہ دیشی ہونے کےشک و شبہے میں زندگی بہت مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

کانگریس نے شہریت کےسوال پر کبھی کوئی فیصلہ کن موقف اختیار نہیں کیا اور نہ ہی غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت اور تعین کے لیے کوئی جامع قدم اٹھایا۔

ریاست کے بنگالی مسلمان تعلیم اور معیشت میں بہت پسماندہ ہیں اور سیاست میں بھی ان کی نمائندگی نہیں ہے۔

آسام کی بنگالی آبادی بے یقینی کی فضا میں زندگی گزار رہی ہے۔ بھارت میں گجرات کے فسادات ممبئی کے فسادات اور سکھ مخالف فسادات کا ہمیشہ ذکر ہوتا ہے لیکن سکھوں سےصرف ایک برس پہلے رونما ہونے والے نیلی کے قتل عام کے بارے میں بھارت کے لوگ جانتےبھی نہیں ہیں۔

اسی بارے میں