مسعود اظہر پر پابندی نہ لگنے پر انڈیا برہم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت ایک عرصے سے جیش محمد کے سربراہ مولانا محمد مسعود اظہر پر بین الاقوامی پابندی چاہتا ہے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں انڈیا کی جانب سے پاکستان میں کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر پر پابندی لگانے کی تجویز کو چین نے روک دیا ہے۔

انڈیا نے اس قدم پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے تاہم اس نے اس سلسلے میں نہ تو چین کا نام لیا ہے اور نہ ہی پاکستان کا۔

مسعود اظہر کو انڈیا کےحوالے کیا جاسکتا ہے؟مسعود اظہر: افغان جہاد کی پیداوار

انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے کہا کہ ’یہ سمجھ سے باہر ہے کہ جیش محمد کو شدت پسند سرگرمیوں اور القاعدہ سے تعلقات کی وجہ سے سنہ 2001 میں ہی بلیک لسٹ شدت پسند تظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا لیکن اس کے لیڈر پر پابندی لگانے کی تجویز پر تکنیکی اعتراض لگا دیا گیا ہے۔‘

سوروپ نے واشنگٹن میں جوہری ہتھیاروں کے تحفظ پر ہونے والی کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئےکہا: ’ہم اس بات سے مایوس ہیں کہ مسعود اظہر پر پابندی لگانے کی ہماری درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی نے تکنیکی پابندی لگا دی ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’پٹھان کوٹ پر ہونے والے حملے سے یہ واضح ہے کہ مسعود اظہر پر پابندی نہیں لگانے کا نتیجہ انڈیا کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انتہا پسندی کے خلاف کمیٹی کا یہ عمل بین الاقوامی کمیونٹی کی جانب سے انتہا پسندی کو فیصلہ کن شکست دینے کے عزم کے مطابق نہیں ہے۔‘

بہر حال یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا چین نے انڈیا کی تجویز پر تکنیکی روک لگانے کی درخواست کی ہے یا کسی دوسرے ملک نے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MEA INDIA
Image caption بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے واشنگٹن میں بھارت کی ناراضگی کا اظہار کیا ہے

تاہم یہ کہا جا رہا ہے کہ چین نے اقوام متحدہ میں طالبان اور القاعدہ پر پابندی لگانے والی کمیٹی کی ڈیڈ لائن سے قبل اس پر روک لگائي ہے۔

بہر حال اقوام متحدہ میں چین کے سفیر لیو جیئي نے اس بارے میں صرف اتنا کہا کہ ’کسی پر بھی پابندی لگانے کے لیے وافر بنیاد کا ہونا ضروری ہے۔‘

اگر مسعود اظہر پر پابندی لگتی ہے تو ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی ہو گی اور ان کے اثاثے منجمد ہو جائیں گے۔

انڈیا کے اخبار دا ہندو کے مطابق بیجنگ، دہلی اور نیویارک میں موجود انڈیا کی وزارت خارجہ کے اہلکاروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رواں سال دو جنوری کو پٹھان کوٹ پر ہونے والے حملے کے بعد سے انڈیا اقوام متحتد کے چین سمیت تمام مستقل رکن ممالک سے مسعود اظہر پر پابندی کے لیے رابطے میں تھا۔

یاد رہے کہ پٹھان کوٹ ایئر بیس پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد پاکستان کی حکومت نے کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو تفتیش کے لیے حفاظتی تحویل میں لیا تھا۔

پاکستان نے پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی تھی۔ کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے دفاتر کو سیل کیا گیا اور بہت سے کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مسعود اظہر کو محکمہ انسداد دہشت گردی نے اپنی تحویل میں لیا ہے۔

اسی بارے میں