’ہتھیار نہ اٹھانا، ہم یہ زہر پی چکے ہیں‘

Image caption امیس کی ماں شہزادہ اختر کہتی ہیں کہ وہ اپنے دوسرے بیٹے کو بھی نہیں روکیں گی

’وہ اللہ کی راہ میں شہید ہو گیا، ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے اس کا خون دھویا۔‘

یہ الفاظ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی ایک ماں کے تھے جس کا 21 سالہ بیٹا امیس احمد شیخ اس بیان سے صرف دو ماہ پہلے ایک پولیس تصادم میں مارا گیا تھا۔

امیس سرینگر سے 50 کلومیٹر دور پلوامہ کا رہنے والا تھا اور انجینیئرنگ کا طالب علم تھا۔ وہ پاکستانی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کا رکن تھا۔

امیس کی ماں شہزادہ اختر کہتی ہیں: ’ہم نے اس کا چہرہ خود اپنے ہاتھوں سے صاف کیا اور دیکھا کہاں کہاں گولیاں لگی ہیں۔ ادھر سینے میں لگی اور پیٹھ سے نکل گئی تھی۔ ایک گولی ٹانگ میں بھی لگی تھی۔‘

شہزادہ اختر کے چہرے پر میں نے کوئی شکن نہیں دیکھی۔ مجھ سے باتیں کرتے وقت ان کی آواز میں جو سختی تھی، اسے میں محسوس کر رہا تھا۔

شہزادہ اختر کو اپنا بیٹا کھونے کا غم نہیں ہے کیونکہ وہ ’شہید‘ ہو گیا۔ ان کا 18 سال کا ایک اور بیٹا ہے۔ اگر وہ بھی ’جہاد‘ کا راستہ اختیار کرے تو وہ ’اسے نہیں روكیں گی۔‘

دو الفاظ ان کے ہونٹوں پر بار بار آ رہے تھے: ’جہاد اور آزادی۔‘

Image caption کشیمری نوجوانوں کے سامنے کئی مسائل ہیں

شہزادہ اختر کا خاندان متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ ایک سکول میں ٹیچر ہیں۔ ان کے گھر میں اور باہر بہت سے نوجوانوں سے ملاقات ہوئی جو یا تو تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا پڑھائی ختم کر کے بے روزگار بیٹھے ہیں۔

امیس ایک ’باصلاحیت‘ طالب علم تھا اور اب ان کا ہیرو بن چکا ہے۔

وہاں موجود محمد اسلم، جاوید اور محمد عاشق تمام امیس کے دوست تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ بھی بندوق اٹھانے کو تیار ہیں۔

ان سے باتیں کر کے محسوس ہو رہا تھا کہ کشمیر وادی ایک بار پھر تشدد کی راہ پر جانے کو ہے۔

کشمیر میں نوجوانوں کو بنیاد پرست بنانے کا نیا دور شروع ہو چکا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بغاوت کو جہاد کا نام دیا جا رہا ہے۔

رواں سال مارچ کے مہینے میں اب تک تین شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔ انھیں شہید کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ ان جنازوں میں ہزاروں عام شہریوں کی شرکت حکام کے لیے تشویش کا سبب ہے۔

Image caption بعض نوجوان ہتھیار اٹھانے کے حق میں ہیں

کشمیر یونیورسٹی کے پروفیسر گل محمد وانی کہتے ہیں: ’کشمیر میں ایک خوفناک ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ یہاں مایوسی اور تنہائی کے احساس میں اضافہ ہوا ہے۔ نوجوانوں کو مذہبی اور سیاسی طور پر سخت گیر بنایا جا رہا ہے۔ انھیں جنگجو تنظیموں میں بھرتی کیا جا رہا ہے۔ شدت پسند حملے بڑھے ہیں۔ حالات سنگین ہیں۔

اردو اخبار چٹان کے مدیر عرفان طاہر کہتے ہیں: ’اختلاف رائے کی امنگوں کو کچلا جا رہا ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی بڑھی ہے۔ اختلاف ظاہر کرنے کی ایک ہی جگہ رہ گئی ہے اور وہ ہے جنازوں میں (شدت پسندوں کے)۔

ایک صحافی کے مطابق امیس احمد شیخ کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ ’جتنے لوگوں نے اس شدت پسند کے جنازے میں شرکت کی اس سے کہیں کم مفتی محمد سعید کے جنازے میں آئے تھے۔‘

امیس کے جنازے میں شریک ہونے والے 20 سالہ جاوید سے میں نے پوچھا: ’تم جنازے میں کیوں گئے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ RIYAZ MASROOR
Image caption نماز جنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت احتجاج کی علامت ہے

اس نے کہا: ’اس وقت میرے دماغ میں یہی چل رہا تھا کہ وہ قوم کے لیے شہید ہوا، اس نے انڈین فورسز سے آزادی کے لیے اپنی جان دی۔‘

جنازے میں شامل ہونے والے ایک اور نوجوان محمد اسلم نے کہا: ’سب کے دماغ میں یہی چل رہا تھا کہ ہم بھی بندوق اٹھائیں اور کشمیر کے لیے کچھ کریں۔‘

اسی طرح دس مارچ کو کولگام میں مارے جانے والے شدت پسند ابو قاسم کے جنازے میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے تھے۔

جنازوں میں عورتیں، بوڑھے، بچے اور نوجوان، تمام طبقے اور عمر کے لوگ شامل ہو رہے ہیں۔ سی آر پی ایف کے ایک اعلیٰ افسر کےکے شرما کا خیال ہے کہ عام عوام عسکریت پسندوں کے جنازے میں شامل ہو رہے ہیں لیکن لوگوں کو اس میں زبردستی لایا جا رہا ہے۔

Image caption پروفیسر گل محمد وانی کا خیال ہے کہ کشمیر کا مسئلہ سیاسی ہے

وہ کہتے ہیں: ’ہو سکتا ہے کہ ڈرانے دھمکانے کی وجہ سے عوام سامنے آ جائیں لیکن جیسے ہی ان (شدت پسندوں) کی اصلیت سامنے آئے گی، عوام انھیں ویسے ہی مسترد کر دیں گے جیسے پہلے کیا تھا۔‘

لیکن ان جنازوں میں شامل بہت سے لوگوں نے بتایا کہ وہ اپنی مرضی سے جنازوں میں شامل ہوتے ہیں۔

کشمیر کے دانشور بار بار آگاہ کر رہے ہیں کہ اگر وادی میں سیاسی سرگرمی بحال نہ ہوئی تو اس کا انجام بہت سنگین ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، کشمیر میں سیاسی استحکام لانا ریاست کے رہنماؤں کی ذمہ داری تو ہے، لیکن پروفیسر وانی کہتے ہیں کہ ’مرکزی حکومت کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ مودی حکومت کے لیے کشمیر بڑا چیلنج بن گیا ہے۔‘

کشمیر میں انتہا پسندی سالوں سے کمزور پڑ چکی تھی اور انڈیا کے خلاف نعروں کی آواز مدھم پڑنے لگی تھی۔ ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے بند ہو گئے تھے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ آج عدم تشدد کی بات وہ کر رہے ہیں جو کبھی تشدد کے پجاری تھے۔ سابق شدت پسند سیف اللہ کے مطابق، بندوق سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

Image caption سابق عسکریت پسند کا خیال ہے کہ ہتھیار اٹھانا زہر پینے کے مترادف ہے

وہ نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہیں: ’ہم تو ہر بچے سے کہیں گے کہ بھولے سے بھی ہتھیار مت اٹھانا کیونکہ ہم نے اس زہر کو پیا ہے۔ اگر آپ نے بندوق اٹھائی تو یا تو آپ اس دنیا سے چلے جاؤ گے یا جیل جاؤ گے۔ تمہارے بعد تمہارے ماں باپ کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہو گا۔‘

سیف اللہ نے سنہ 1990 کی دہائی میں جوانی کے جوش میں ’جہاد‘ کے لیے بندوق اٹھائی تھی۔ دس سال جیل میں رہے۔ آج انھیں اس کا شدید افسوس ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی طرح آج کے نوجوان وہ نادانی نہ کریں جو انھوں نے کی تھی۔

آج کشمیر ایک دوراہے پر ہے۔ کیا نوجوان سیف اللہ کا مشورہ مانیں گے یا پھر ’جہاد‘ کا سبق پڑھانے والوں کی بات پر چلیں گے؟

اسی بارے میں