’اگر انڈیا تیار نہیں تو ہم انتظار کر سکتے ہیں‘

Image caption پاکستان مذاکرات کے حق میں ہے لیکن کشمیر کے مسئلے کو نظر انداز کرکے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی: عبدالباسط

انڈیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں فی الحال جامع مذاکرات کا عمل معطل ہے کیونکہ ’بھارت ابھی بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

نئی دہلی میں پریس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی معلومات کےمطابق خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان فی الحال کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔

* پٹھان کوٹ حملہ: بھارتی ٹیم بھی پاکستان جائےگی

* پٹھان کوٹ: بھارت اور پاکستان میں باقاعدہ بات چیت شروع

* پاکستانی تحقیقاتی ٹیم انڈیا پہنچ گئی

’ہم تمام مسائل حل کرنے کے لیے انڈیا کےساتھ جامع اور بامعنی مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر انڈیا ابھی تیار نہیں ہے تو ہم انتظار کرسکتے ہیں، مذاکرات کا عمل دونوں ممالک کے حق میں ہے، یہ کسی ایک ملک کا دوسرے پر فیور (احسان) نہیں، ہم دیکھیں گے کہ انڈیا بات چیت کے سلسلے میں کیا پالیسی اختیار کرتا ہے؟۔‘

پٹھان کوٹ پر حملے کی تفتیش کے لیے بھارتی ٹیم کو پاکستان جانے کی اجازت دیے جانے کے بارے میں انھوں نے کہا ’یہ ادلا بدلی کا نہیں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا سوال ہے تاکہ معاملے کی تہہ تک پہنچا جاسکے۔‘

عبدالباسط کے اس بیان کا بھارتی میڈیا میں یہ مطلب نکالا جا رہا ہے کہ پٹھان کوٹ پر حملے کی تفیتش کے لیے قومی تفتیشی بیورو (این آئی اے) کی ٹیم کو پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاکستان کی ایک مشترکہ تفتیشی ٹیم نے چند روز قبل بھارت کا دورہ کیا تھا جسے پٹھان کوٹ کی ایئر بیس بھی لے جایا گیا تھا جہاں شدت پسندوں کے حملے میں چھ بھارتی فوجی اہلکار ہلاک ہوگئِے تھے۔

تفتیشی ٹیم نے 16 گواہوں کے بیان بھی ریکارڈ کیے تھے لیکن بعد میں پاکستان نے کہا تھا کہ اسے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں شامل فوجی افسروں سے تفتیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

بھارت کا الزام ہے کہ اس حملے کے لیے جیش محمد ذمہ دار ہے اور این آئی اے کے تفتیش کار اس سلسلے میں مولانا مسعود اظہر سے تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔ این آئی اے نے پاکستانی ٹیم کو بھی یہ بتایا تھا کہ وہ اپنی ایک ٹیم پاکستان بھیجنا چاہتا ہے۔

پریس کانفنرس میں ہائی کمشنر نے کہا کہ کلبھوشن یادیو نامی بھارتی بحریہ کے ایک سابق افسر کی بلوچستان میں گرفتاری سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جو پاکستان عرصے سے کہتا رہا ہے۔ ’ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں کون عدم استحکام پیدا کر رہا ہے؟۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے حق میں ہے لیکن کشمیر کے مسئلے کو نظر انداز کرکے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال دسمبرمیں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اچانک پاکستان جانے کے بعد سے بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی لیکن پٹھان کوٹ پر حملے کے بعد سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں