طلبا کے درمیان کرکٹ میچ کے دوران جھڑپ

Image caption کشمیر میں طلباء کی اکثریت نے انڈیا اور ویسٹ انڈیز کے میچ میں ویسٹ انڈیز کی حمایت کی تھی

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی ایک یونیورسٹی میں کرکٹ میچ سے شروع ہونے والی کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔

طلبا اور اساتذہ کے درمیان سرینگر شہر کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں جھڑپ ہوئی جس میں پولیس نے طلبا کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھیوں کا استعمال کیا۔ سینیئر صحافی شجاعت بخاری نے اب تک وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو بیان کیا ہے۔

این آئی ٹی طلبا کون ہیں؟

این آئی ٹی سنہ 1960 میں ایک مقامی انجینیئرنگ کالج کے طور پر قائم ہوئی اور سنہ 2004 میں اُس وقت تک کشمیری حکومت کے زیرِ انتظام تھی جب تک کہ اس کا نام تبدیل کردیا گیا اور اب یہ وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام ہے۔

اس سے مراد یہ ہے کہ کالج میں داخلے قومی امتحان کی بنیاد پر شروع ہوں گے اور جامعہ میں بھارت بھر کے طلبا کے لیے راہیں کھل گئیں۔اس نے رفتہ رفتہ ادارے میں طلبا کے اندراج کا طریقہ تبدیل کردیا ہے۔

اس وقت جامعہ کی 50 فی صد نشستیں جموں اور کشمیر ریاست سے باہر کے لیے مختص ہیں۔ جبکہ دیگر 50 فی صد نشستیں مسلم اکثریتی وادی کشمیر کے مسلمان طلبا، ہندو اکثریت والے علاقوں میں تقسیم ہیں۔اس وقت کیمپس میں 3 ہزار کے قریب طلبا زیرِ تعلیم ہیں۔

یہ مشکل کس طرح شروع ہوئی؟

یہ بحران گذشتہ ہفتے انڈیا کے ورلڈ ٹی 20 کے سیمی فائنل میں ویسٹ انڈیز کے ساتھ میچ کے دوران جھڑپ کے موقع پر شروع ہوا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مقامی کشمیری طلبا نے ویسٹ انڈیز کی حمایت کی جبکہ دیگر تمام نے اپنی ملکی ٹیم کی حمایت کی۔

ایک علامتی نعرے بازی جلد ہی تشدد میں تبدیل ہوگئی اور جھڑپوں کا آغاز ہوگیا۔

کچھ کشمیری طلبا نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس واقعے میں انھیں ’مارا پیٹا‘ گیا۔ جس کی وجہ سے وادی کشمیر میں غم وغصے نے جنم لیا۔ جو پھر ایک نوجوان امتیاز شیخ کی اس اطلاع کے بعد کہ ’باہر کے‘ طلبا نے انھیں اس وقت مارا جب وہ کیمپس میں ایک پیکج کی ترسیل کے لیے گئے تھے۔

جھڑپیں دوبارہ اس وقت شروع ہوئیں جب کشمیر سے باہر کے طلبا نے ’بھارت ماتا کی جے‘ (مدر انڈیا کی جیت) کے نعرے لگائے اور جامعہ پر انڈیا کا قومی پرچم لہرانے کی کوشش کی۔

پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے مبینہ طور پر پرچم اپنے ’قبضے‘ میں لے لیا اور امن وامان بحال کرانے کی کوشش کی۔

انڈیا میں اس وقت ایک گرما گرم بحث جاری ہے کیونکہ کچھ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ ملک کو ’دیوی‘ کا درجہ دینے کے برابر ہے اور مسلمان ہونے کے ناطے ہم اللہ کے علاوہ کسی کو بھی خدا کا درجہ دینا غیر اسلامی ہے۔

مغربی بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں حال ہی میں ایک مسلمان قانون ساز کو اس بنا پر معطل کردیا گیا کہ انھوں نے ایسا کہنے سے انکار کردیا تھا۔

وہ اب کیوں احتجاج کررہے ہیں؟

کشمیر سے باہر کے طلبا نے الزام لگایا ہے کہ انھیں جامعے کے تدریسی عملے ، جن میں سے زیادہ تر مقامی ہیں، کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جامعہ کے باہر ایک احتجاجی مارچ کی کوشش کی لیکن انھیں پولیس نے روک دیا۔

فریقین میں جھڑپیں شروع ہوگئیں اور پولیس نے احتجاج کرنے والے طلبا پر لاٹھی چارج کیا۔

کرکٹ میچ اس کی وجہ کیوں تھا؟

ایک کرکٹ میچ پر کشمیر میں تنازعہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔

وادی کشمیر میں زیادہ تر لوگ پاکستان کی حمایت کرتے ہیں۔ بلکہ درحقیقت سنہ 1980 میں خطے میں عسکریت پسندی کے پھیلنے سے قبل وہاں کے رہائشی عوامی سطح پر مختلف ٹیموں جیسے کہ آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے لیے خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے۔

اور اب جب بھارت مخالف جذبات بہت زیادہ بڑھے ہوئے ہیں اور بہت سے کشمیری خود کو الگ سمجھ رہے ہیں تو اس طرح کا غم وغصہ غیر معمولی نہیں ہے۔

واقعے کے تین مختلف پہلو کیوں ہیں؟

پولیس اور جامعہ کے غیر سرکاری ذرائع نے یہ تاثر دیا ہے کہ یہ جھڑپیں جامعہ کے سینیئر طلبا کے ایک گروہ کے اپنے پُرانے حساب چکانے کی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں تھیں۔

لیکن کچھ طلبا جنھوں نے بی بی سی سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرائط پر بات کی ہے کہ اُن کا کہنا ہے کہ انھوں نے خطرہ محسوس کیا تھا۔

اُن میں سے ایک طالب علم کے مطابق ’ہم محفوظ نہیں ہیں اور ہم یہاں تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے بہت خوفزدہ ہیں۔ تدریسی عملے کا سلوک ہم سے اچھا نہیں ہے اور ہم پولیس سے خوفزدہ ہیں۔‘

مقامی طلبا نے الزام لگایا ہے کہ یہ پورا واقعہ این آئی ٹی کو کشمیر سے باہر منتقل کرنے کی ایک سازش ہے۔

اُن میں سے ایک اور نے بی بی سی کو بتایا ’ہم جامعہ میں اقلیت ہیں۔ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ وہ اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ بھارتی حکومت ہماری طرف ہے اور وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔‘

حکام نے اس پر کیا ردِعمل ظاہر کیا؟

یونیورسٹی حکام اور وزرائے مملکت اس مسئلے کو اہمیت نہیں دے رہے اور اس حوالے سے پُراعتماد ہیں کہ وہ جلد ہی اِن مسائل کو حل کرلیں گے۔

لیکن وفاقی حکومت نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے احتجاج کرنے والے طلبا سے مذاکرات کے لیے نیم فوجی دستوں اور اعلیٰ سطح کی ٹیم کو روانہ کیا ہے۔اس طرح سے کشمیری حکومت اور مقامی پولیس کے کردار کو کم کیا جارہا ہے۔

اس بات سے قطع نظر بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور انسانی وسائل کی ترقی کی وزیر سمرتی ایرانی نے کشمیری وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی سے بات کی ہے اور ان سے ریاست سے باہر سے آنے والے طلبا کی حفاظت یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

واقعے کے مضمرات کیا ہیں؟

این آئی ٹی اب بھارت میں ’قوم پرستی‘ کے حوالے سے گرما گرم بحث کا تازہ ترین موضوع بن چکا ہے۔

کالج میں جو کچھ ہوا اس کا دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) اور جنوبی بھارت کی حیدرآباد یونیورسٹی میں ہونے والے حالیہ واقعات سے براِ راست موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ جہاں پولیس نے ’قوم دشمنی‘ کے الزام میں طلبا کے خلاف کارووائی کی۔

تاہم جس طریقے سے حکومت نے جامعے کے احاطے میں نیم فوجی دستوں کو بھیجا اور ریاست کے حکام کو ایک کونے سے لگایا اس عمل نے نئی حکومت کے مستقبل اور کالج کے طلبا کے حوالے سے چند خدشات کو جنم دیا ہے۔

اسی بارے میں