کشمیر: فوج کی فائرنگ میں دو نوجوان ہلاک، احتجاج جاری

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شمالی قصبے ہندوارہ میں فوج کی فائرنگ میں دو طالب علموں کی ہلاکت کے بعد ہندوارہ اور دوسرے قصبوں میں کشیدگی کی لہر پھیل گئی ہے۔

پولیس اور عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کے روز مقامی ایک خاتون کے ساتھ ایک فوجی کی مبینہ جنسی زیادتی پر سینکڑوں نوجوان سڑکوں پر آگئے اور ہندوارہ چوک میں قائم فوجی بنکر کی طرف مارچ کرنے لگے۔ فوج نے مشتعل نوجوانوں پر فائرنگ کی جس سے سات نوجوان زخمی ہوگئے۔

٭ کشمیر پولیس کی حب الوطنی ہر شکوک

٭ کشمیری پنڈتوں کو مسلمان ہمسائے یاد آتے ہیں

زخمیوں کو ہندوارہ کے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر رؤف کے مطابق دو نوجوانوں محمد نعیم اور اقبال کی موت ہوگئی۔ دیگر نوجوانوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

اس واقعے کے بعد فوج بنکر چھوڑ کر چلی گئی اور مشتعل نوجوانوں نے بنکر پر سے انڈین پرچم اتار کر اور انڈیا مخالف نعرے بازی کی۔

قصبے میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور پولیس و نیم فوجی اہلکاروں کی بھاری تعداد کو صورت حال پر قابو پانے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

قانون ساز اسمبلی کے رکن انجینیئر رشید جب ہندوارہ پہنچے تو وہاں ہزاروں لوگ دو نوجوانوں کی لاشوں کے ہمراہ مظاہرہ کر رہے تھے۔

انجینیئر رشید نے بی بی سی کو بتایا: ’یہاں جو ظلم ہورہا ہے، وہ نازی جرمنی میں یہودیوں پر بھی نہیں ہوا۔ ہم تحقیقات کا اعلان سننا نہیں چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ قصورواروں کو اسی طرح پھانسی پر لٹکایا جائے جس طرح مقبول بٹ اور افضل گورو کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔‘

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز کے مطابق ہندوارہ چوک میں 26 سال سے قائم بنکر پر مظاہرین نے دھاوا بول دیا تو فوج وہاں سے نکل گئی۔

ڈویژنل کمشنر اصغر حسین سامون نے کہا ہے کہ اس واقعے کی مجسٹریٹ سطح پر تحقیقات ہوں گی۔ لیکن عوامی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سالہا سال سے ایسے واقعات میں درجنوں تحقیقاتی کمیشن قائم کیے گئے لیکن آج تک ایک بھی واقعے میں قصورواروں کو سزا نہیں ملی۔

دریں اثنا علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے اس واقعے کے خلاف بدھوار کو کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی خطوں میں ہمہ گیر ہڑتال کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے منگل کے روز وادی کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی کال پر ہڑتال کی جا رہی تھی۔ یہ ہڑتال کشمیر سے باہر مختلف انڈین تعلیمی اداروں میں کشمیری طلبہ پر ہندوقوم پرست تنظیموں کی طرف سے کیے گئے تشدد کے خلاف تھی۔

دوسری جانب براہ راست حکومت ہند کے کنٹرول والے کشمیر کے انجینئیرنگ کالج این آئی ٹی میں دس روزہ احتجاج ختم ہوگیا کیونکہ کالج انتظامیہ نے غیرمقامی طلبہ کے مطالبات کو پورا کر دیا۔

ان میں امتحانات کی تاریخ میں تاخیر، لڑکیوں کو دیر رات تک کیمپس میں نقل و حرکت کی آزادی، کالج کے اندر مذہبی تہوار منانے کی اجازت اور بجلی اور انٹرنیٹ کی دن رات فراہمی جیسے مطالبات شامل تھے۔

اسی بارے میں