کشمیر میں چارافراد ہلاک، حالات کشیدہ، کرفیو اور ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فوج نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ہلاکتیں فوج کی فائرنگ سے ہوئی ہیں

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ کشیدگی کی لہر میں بدھ کو پولیس سے تصادم کے دوران ایک اور نوجوان کی ہلاکت کے بعد حالیہ احتجاج میں مرنے والوں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔

مقامی پولیس کے سپرانڈینڈنٹ اعجاز احمد نے کہا کہ کپوارا میں مظاہرے کے دوران ایک نوجوان کو آنسو گیس کا شیل سر میں لگنے سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

قبل ازیں انڈین فورسز کی فائرنگ سے تین افراد کی ہلاکتوں کے خلاف مظاہروں کی لہر کو روکنے کے لیے سرینگر سمیت بیشتر علاقوں میں بدھ کے روز کرفیو نافذ کردیا گیا۔

تین افراد کی ہلاکت سرینگر سے شمال کی جانب 70 کلومیٹر دُور ہندوارہ قصبہ میں منگل کے روز اُس وقت ہوئیں جب ایک لڑکی کےساتھ فوجی اہلکار کی مبینہ جنسی زیادتی کے خلاف سینکڑوں نوجوانوں نے احتجاجی جلوس نکالا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہاں موجود فورسز نے جلوس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو نوجوان محمد نعیم اور محمد اقبال ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے بعد میں ایک 60 سالہ خاتون ہسپتال میں چل بسیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک شدہ شہریوں کے جسم سے ملی گولیوں کی فورینسک جانچ کے بعد ہی یہ طے کیا جائے گا کہ گولی کس نے چلائی تھی

اس دوران پولیس اور فوج نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں سکول کی وردی میں مبلوس ایک 17 سالہ طالبہ کہتی ہیں کہ وہ جب بیت الخلا سے باہر نکلیں تو انھیں چند کشمیری لڑکوں نے، جن میں سے ایک وردی میں ملبوس تھا، دھر لیا اور نازیبا الفاظ استعمال کیے۔

لڑکی کا کہنا ہے کہ بعد میں انھیں پولیس تھانے پہنچایا گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ’بھارتی فوج کی 21 آر آر کا اہلکار بالکل اُسی وقت بیت الخلا میں داخل ہوا جب وہ لڑکی داخل ہوئی۔ جب نوجوانوں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو فوجی اہلکار بھاگ گیا۔‘

وہاں پر اُس وقت موجود شوکت احمد کہتے ہیں: ’سب لوگ پُرامن طریقے پر پولیس اور فوج سے مطالبہ کررہے تھے کہ قصور وار کو گرفتار کیا جائے۔ اس دوران لڑکوں نے جلوس نکالا اور پولیس نے ان پر فائرنگ کی۔ بعد میں فوج نے بھی فائرنگ کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہندوارہ کے رہائشیوں نے حکومت سے کہا ہے کہ ہندوارہ چوک سے بنکر ہٹانے اور قریبی فوجی کیمپ کو منتقل کرنے تک احتجاج جاری رہے گا

لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک شدہ شہریوں کے جسم سے ملی گولیوں کی فورینسک جانچ کے بعد ہی یہ طے کیا جائے گا کہ گولی کس نے چلائی تھی۔ تاہم فوج نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ہلاکتیں فوج کی فائرنگ سے ہوئی ہیں۔

اس دوران فوج اور حکومت نے الگ الگ سطحوں پر اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے فوجی حکام اور بھارتی وزیردفاع کے ساتھ یہ معاملہ اُٹھایا ہے۔

لیکن عوامی حلقوں نے مبینہ جنسی زیادتی کی شکار طالبہ کا ویڈیو جاری کرنے پر پولیس اور فوج پر سخت تنقید کی ہے۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم خرم پرویز کہتے ہیں: ’خود انڈیا کے قانون کے مطابق ایسی کسی خاتون کی شناخت ظاہر کرنا جرم ہے۔ پولیس یہ جرم فوج کے دفاع میں کر رہی ہے۔‘

اس دوران ہندوارہ کے رہائشیوں نے حکومت سے کہا ہے کہ ہندوارہ چوک سے بنکر ہٹانے اور قریبی فوجی کیمپ کو منتقل کرنے تک احتجاج جاری رہے گا۔

اسی بارے میں