سرحدوں کے درمیان، شناخت کے بغیر

تصویر کے کاپی رائٹ Carl Court
Image caption حالیہ برسوں میں ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن ترکی کی راستے یورپ داخل ہوئے ہیں

فرزاد شفاہی اس وقت ترکی میں رہتے ہیں، وہ ایران میں پیدا ہوئے تھے جبکہ ان کے خاندان کا تعلق افغانستان سے ہے۔ ان کے پاس ان تینوں ممالک میں سے کسی کا بھی پاسپورٹ یا شہریت نہیں ہے اور اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے انھیں غیر ریاستی فرد کے طور پر تسلیم کیا ہوا ہے۔

فرزاد دنیا بھر میں موجود ان تقریباً ایک لاکھ لوگوں میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے شہری نہیں ہیں۔ فرزاد بی بی سی ترکی کی نامہ نگار رینگین ارسلان کو اپنی کہانی سناتے ہیں۔

میں 25 سال کا افغان ہوں جس کی جڑیں کسی ملک میں نہیں ہیں۔ میری کوئی شہریت نہیں ہے۔ میں ترکی میں رہتا ہوں لیکن اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق مجھے اس ملک میں بھی کوئی حیثیت حاصل نہیں ہے۔

میرے پاس اپنی حیثیت ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت بھی نہیں ہے، سوائے اس کے کہ میں ایک جیتا جاگتا انسان ہوں۔

میں افغانستان کی سرحد سے منسلک ایرانی شہر زاہدان کے ایک قصبے میں ایک مہاجر خاندان میں پیدا ہوا۔

میرے والدین افغانستان سے بھاگ کر ایران آئے تھے کیونکہ افغانستان میں میرے والد طالبان کو مطلوب تھے اور ان کو اپنی زندگی بچانے کے لیے وہاں سے بھاگنا ضرری تھا۔

اب میری زندگی میں کوئی بھی نہیں ہے۔

میری ماں میری بہن کی پیدائش کے وقت انتقال کرگئی تھیں۔ اس وقت میری عمر صرف دو سال تھی اس لیے مجھے ان کے بارے میں کچھ زیادہ یاد نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption ’میں 25 سال کا ایک افغان ہوں جس کی جڑیں کسی ملک میں نہیں ہیں‘

میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ انھیں کسی ہسپتال لے کر نہیں جا سکتے تھے کیونکہ وہ لوگ ایران میں غیر قانونی طور پر رہ رہے تھے۔

میری زندگی سنہ 2010 میں اس وقت یکسر تبدیل ہو گئی جب تہران میں رہتے ہوئے میرے والد اور بہن کسی کام سے باہر نکلے اور پھر کبھی واپس نہیں آئے۔

ایران کے سکیورٹی حکام ان افغانوں کو تلاش کر رہے تھے جو بغیر کسی شناخت کے وہاں مقیم تھے۔ یقیناً میرے والد اور بہن کو بھی انھی حکام نے پکڑ لیا ہو گا۔

میں نے ان کا بہت انتظار کیا لیکن میرا خاندان مجھے پھر کبھی نہیں ملا۔

میں نے ایران سے جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہاں ہماری کوئی ضرورت نہیں تھی۔ میر جسم پر وہ داغ آج بھی موجود ہیں جو مجھے ایران کی سڑکوں پر بلاوجہ مار کھانے سے پڑے تھے۔

پھر پہلی مرتبہ مجھے سرحد پار ترکی سمگل کر دیا گیا۔

لیکن ایسا آخری مرتبہ نہیں تھا۔ اس کے بعد میں کئی مرتبہ دیگر سمگلروں کے ساتھ مختلف سرحدیں پار کرتا ہوا یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر چکا ہوں۔

ترکی میں مجھے اقوام متحدہ کے دفتر میں رجسٹر کر لیا گیا تھا لیکن میں یورپ آنا چاہتا تھا۔

ترکی میں چھ سال قبل کوئی شامی نہیں تھا اور افریقہ، افغانستان اور ایران سے آنے والے مہاجرین نے مجھ سے کہا کہ ترکی میں رہتے ہوئے تمہارا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی مہاجر ابھی تک ترکی میں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس سمگلروں کو دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘

میں نے سنہ 2010 میں پہلی مرتبہ یورپ جانے کی کوشش کی اور ناکام رہا اور مجھے واپس ترکی بھیج دیا گیا۔

میں نے نیا سال جلاوطنوں کے لیے بنائے گئے ایک مرکز میں گزارا اور اس کے بعد میرے ساتھ اتنا برا ہوا کہ پہلی مرتبہ میرے دل میں موت کی خواہش پیدا ہو گئی۔

میں نے خودکشی کی کوشش کی لیکن ہتھکڑیوں میں ہسپتال پہنچا دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Dan Kitwood
Image caption ترکی اور یورپی یونین کے درمیان معاہدے کے ذریعے تارکین وطن کی آمد کو محدود کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں

میں بچ گیا تھا اور پھر دو سال بعد میں دوبارہ سرحد عبور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بلغاریہ میں داخل ہو گیا۔ کافی عرصے تک میں جنگل میں روپوش رہا لیکن مجھے وہاں سے بھی پکڑ کر واپس ترکی پہنچا دیا گیا۔

اب میں ایک یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہوں اور تیسری مرتبہ سرحد پار کرنے کی کوشش نہیں کر سکتا۔

اگر میں اس مرتبہ بھی ناکام ہو گیا تو بڑی حد تک ممکن ہے کہ ترکی اور یورپی یونین معاہدے کے تحت مجھے واپس افغانستان ہی نہ بھیج دیا جائے۔

وہاں جانے سے بہتر ہے کہ میں یہیں مر جاؤں۔ میں نے ایک سال قبل اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ کوئی بھی مجھے زندہ حالت میں افغانستان نہیں لے جا سکتا۔

ترکی کے حکام شامیوں کو ’معاشی پناہ گزینوں‘ کا درجہ دیتے ہیں۔ میں ان سے سوال کرتا ہوں کہ کون بیوقوف ہوگا جو زیادہ آمدنی کی خاطر سمندر میں ڈوبنے کا خطرہ مول لے گا؟

اب میرے کوئی خواب نہیں ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ ایک دن میں سوشیالوجی کا پروفیسر بن جاؤں گا۔

میں اپنی اور اپنے جیسے دیگر لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں جو بغیر کسی شناخت کے سرحدوں کے درمیاں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

اسی بارے میں