کشمیر پھر بےچینی کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سری نگر کے کئی علاقوں میں پولیس کی جانب سے سختی کی جارہی ہے جبکہ کپوارہ اور ہندوارا کے سرحدی علاقوں میں کرفیو نافذ ہے
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ دو روز سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ علاقے کے بیشتر حصوں میں کاروبارِ زندگی معطل ہے۔ سری نگر سے صحافی شجاعت بخاری مقامی افراد کی برہمی کی وجہ بتا رہے ہیں۔

رواں ہفتے منگل کے روز سے اب تک چار شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے ایک کرکٹر اور ایک ادھیڑ عمر کی خاتون بھی شامل ہیں۔ سری نگر کے کئی علاقوں میں پولیس کی جانب سے سختی کی جا رہی ہے جبکہ کپوارہ اور ہندوارا کے سرحدی علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔

ایک انڈین فوجی کی جانب سے مبینہ طور پر نو عمر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی افواہ کے بعد چار میں سے تین ہلاکتیں سری نگر کے شمال میں ہندوارہ کے علاقے میں ہوئی ہیں۔ چوتھی ہلاکت درگ مولا میں ہوئی جب ایک نو عمر لڑکا آنسوگیس کے شیل لگنے سے شدید زخمی ہوا اور زخموں کی شدید نوعیت کے باعث ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

مبینہ زیادتی کی خبر پھیلنے کے بعد لوگ بڑی تعداد میں باہر نکل آئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ مظاہرین کی زیادہ تر تعداد نوجوانوں پر مشتمل تھی۔ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصویر میں ان نوجوانوں کو ایک بھارتی فوجی کے پیچھے بھاگتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ابتدا میں مقامی پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کی کوشش کی تھی تاہم جلد ہی مظاہرے میں شامل لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث صورت حال کنٹرول سے باہر ہو گئی

اطلاعات کے مطابق ابتدا میں مقامی پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کی کوشش کی تھی، تاہم جلد ہی مظاہرے میں شامل لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث صورت حال کنٹرول سے باہر ہو گئی تھی۔

مظاہرین نے علاقے میں قائم بھارتی فوج کے بنکر کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

انڈین فوج کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں دو نوجوان، 21 سالہ محمد نعیم اور 22 سالہ محمد اقبال ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ایک 54 سالہ خاتون کو بھی گولی لگی تھی جنھوں نے ہسپتال میں دم توڑ دیا تھا۔

جلد ہی شہر کی صورت حال انتہائی کشیدہ ہو گئی جس کے لیے حکومت پہلے سے تیار نہیں تھی۔

مظاہروں کا سلسلہ جلد ہی کشمیر کے دیگر علاقوں میں بھی پھیل گیا۔ علیحدگی پسندوں کی جانب سے اس واقعے کو ’ریاستی دہشت گردی‘ کی مثال کہا گیا اور ہڑتال کی کال دے دی گئی۔

اضافی نفری کی مدد سے ہندوارہ کی ناکہ بندی کر دی گئی تھی جبکہ فوج کی جانب سے فوری طور پر ہلاکتوں پر ’افسوس‘ کا اظہار کیا گیا اور واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مظاہروں کا سلسلہ جلد ہی کشمیر کے دیگر علاقوں میں بھی پھیل گیا جبکہ علیحدگی پسندوں کی جانب سے اس واقعے کو ’ریاستی دہشت گردی‘ کی مثال کہا گیا اور ہڑتال کی کال دے دی گئی

انڈیا کی سب سے مشکل ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے دس روز قبل ہی اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ اس دوران وہ دارالحکومت دہلی میں تھیں اور حکام کے مطابق وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ساتھ ’طے شدہ ملاقاتیں‘ کر رہی تھیں۔

کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور ہلاک شدگان کے خاندان کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

تاہم اس کے باوجود بھی کشیدگی میں کمی نہیں آ پائی۔

کشمیر میں انڈین قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے موجود بداعتمادی کی فضا کے باعث فوج، پولیس، یا پیرا ملٹری کسی چھوٹے سے واقعے میں بھی ملوث ہوں تو صورت حال فوراً سنگین ہو جاتی ہے۔

اس بداعتمادی کی بڑی وجہ متنازع آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) ہے جو سکیورٹی فورسز کو سفاکانہ حد تک اختیارات دیتا ہے۔

اور پھر ان واقعات میں ایک نیا موڑ آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فوج کے اس قدم کو سماجی کارکنوں اور مقامی سیاست دانوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فوج آخر کس طرح ’متاثرہ لڑکی‘ کی ویڈیو جاری کر سکتی ہے

ایک ایسی وڈیو اس وقت گردش کر رہی ہے جس میں مبینہ طور پر زیادتی کا ’شکار لڑکی‘ کو دکھایا گیا ہے۔ وہ بتا رہی ہیں کہ ’دو مقامی لڑکے ان کا پیچھا کر رہے تھے‘ جنھوں نے ان کی ’کسی بات کا برا منایا تھا۔‘

وہ براہ راست کسی فوجی کے ملوث ہونے سے انکار نہیں کرتیں، تاہم ان کی گفتگو سے کوئی بھی یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پہ یہ ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔ انڈین فوج کی جانب سے بعد میں یہ وڈیو صحافیوں میں تقسیم کی گئی تھی جبکہ لڑکی کا چہرہ دھندلا کر دیا گیا تھا۔

فوج کے اس قدم کو سماجی کارکنوں اور مقامی سیاست دانوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فوج آخر کس طرح ’متاثرہ لڑکی‘ کی ویڈیو جاری کر سکتی ہے۔

دوسری جانب فوج کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ ’ہماری ساکھ خراب کرنے کے لیے چند لوگوں کی جانب سے جو پروپیگنڈا کیا جارہا تھا اس کا تدارک کرنے کے لیے اس ویڈیو کو جاری کرنا ضروری تھا۔‘ تاہم ان کی یہ دلیل لوگوں کی بڑی تعداد کو قائل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

وکیل ظفر شاہ کہتے ہیں: ’پولیس یا فوج زیادتی کا شکار ہونے والی فرد کی شناخت ظاہر نہیں کر سکتے، لیکن بدقسمتی سے انھوں نے اس سے بھی آگے کا قدم اٹھا لیا ہے۔ ان (متاثرہ لڑکی) کی ویڈیو بنانا اور پھر اسے جاری کر دینا، یہ ایک سنگین جرم ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption لوگوں کو اس بات کا بھی یقین نہیں ہے کہ فوج اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی ہلاکتوں کی تفتیش نتیجہ خیز ثابت ہو گی

انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کا کہنا ہے کہ کیا فوج یہ ویڈیو جاری کر کے عام شہریوں کی ہلاکت کو حق بجانب قرار دینے کی کوشش کر ہی ہے؟

انھوں نے کہا کہ ’کس قانون کے تحت فوج نے نوعمر لڑکی کی پولیس کی تحویل میں ہونے والی پوچھ گچھ کی ویڈیو جاری کی ہے؟ یہ تو عدالت کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہے۔‘

کئی کشمیریوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر اس ویڈیو کی صداقت پر سوال اٹھائے ہیں۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ ویڈیو اصل ہے یا نہیں، نہ ہی ویڈیو میں دکھائی گئی لڑکی کے بارے میں یقین سے کچھ کہا جا سکتا ہے، تاہم یہ حکومت کو کشمیر میں درپیش ایک اہم مسئلے کی عکاسی ضرور کرتی ہے۔

اگر ویڈیو اصلی بھی ہو تو ریاست میں حکومتی ساکھ اتنی خراب ہے کہ ایک عام شہری ان پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اس کے علاوہ لوگوں کو اس بات کا بھی یقین نہیں ہے کہ فوج اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی ہلاکتوں کی تفتیش نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔

ماضی میں ایسی تحقیقات یا تو ڈبوں میں بند کر دی گئیں یا پھر سکیورٹی فورسز کو مکمل طور پر بری الذمہ قرار دے دیا گیا۔

تاہم مقامی قانون ساز سجاد لون کو یقین ہے کہ انصاف ضرور ہوگا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہلاک شدگان کے گھروالوں کو انصاف ملے۔ یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے جس سے بچا جا سکتا تھا۔‘

اسی بارے میں