جھارکھنڈ میں فرقہ وارانہ تشدد، کئی علاقوں میں حالات کشیدہ

تصویر کے کاپی رائٹ NIRAJ SINHA
Image caption سب سے زیاہ خراب صورت حال بوکارو کی ہے جہاں جھڑپوں میں پولیس کے ڈپٹی کمشنر سمیت درجن بھر افراد زخمی ہوئے ہیں

انڈین ریاست جھارکھنڈ میں رام نومي (بھگوان رام کی پیدائش) کے جلوس کے دوران ہندؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے جبکہ کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

حکام نے فرقہ وارنہ کشیدگی، آتشزدگی اور دو دھڑوں میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد بوکارو شہر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ضلع ہزاری باغ کے کیرے ڈاری تھانے کے علاقے کے پانڈو میں ایک شخص ہلاک ہوگيا ہے۔

سب سے زیاہ خراب صورت حال بوکارو کی ہے جہاں جھڑپوں میں پولیس کے ڈپٹی کمشنر سمیت درجن بھر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ چترا نامی علاقے میں بھی ماحول بگاڑنے کی کوشش ہورہی ہیں جسے پولیس قابو میں کرنے میں مصروف ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں کئی افراد کو حراست میں لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NIRAJ SINHA
Image caption پولیس کے مطابق یہ تنازع رام نومي جلوس کے راستے کو لے کر شروع ہوا تھا اور برہم جلوس نے کئی گاڑیوں میں آگ لگا دی

بوکارو کے ڈپٹی کمشنر رائے مہاپات نے بتایا ہے کہ شہر کے سیکٹر 12، مارافری، بال ڈیہہ اور بوکارو سٹیل سٹی تھانے والے علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گيا ہے۔

ان متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لی پولیس فورس کے اضافی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔

ادھر بوکارو پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) نے بتایا ہے کہ اس سلسلے میں بہت سے افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور گشت تیز کر دیا گيا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ تنازع رام نومي جلوس کے راستے پر تنازعے سے شروع ہوا تھا اور برہم جلوس نے کئی گاڑیوں میں آگ لگا دی۔

ہزاری باغ کے ایس پی اکھلیش جھا نے بتایا ہے کہ رام نومي جلوس کے دوران پانڈو گاؤں میں دو گروپوں کے درمیان جھڑپ میں مسلم برادری کا ایک شخص ہلاک ہوگيا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ فی الحال حالات کنٹرول میں ہیں لیکن جھڑپوں میں بہت سے لوگوں کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔

اسی بارے میں