’کوہِ نور کی انڈیا واپسی کے لیے اب بھی پرعزم ہیں‘

Image caption یہ ہیرا برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی ملکیت ہے اور ملکہ کے تاج میں جڑا ہوا ہے

انڈین حکومت نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کوہ نور ہیرے کو ملک واپس لانے کے لیے پرعزم ہے۔

یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب اس سے ایک روز قبل ہی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل رنجیت کمار نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ یہ ہیرا برطانیہ کو سکھ جنگوں کے بعد دیا گیا تھا، اسے چرایا نہیں گیا تھا۔

ان کے مطابق یہ وزارت ثقافت کا موقف ہے اور وزارت خارجہ نے ابھی اپنا نظریہ واضح نہیں کیا۔

٭ کوہِ نور ہیرا چُرایا نہیں گیا: انڈیا

٭ ’کوہِ نور بھارت کو واپس نہیں کریں گے‘

تاہم منگل کو وزارت ثقافت کے وزیر کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انڈین حکومت ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ کوہ نور ہیرے کو انڈیا واپس لانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سالیسٹر جنرل رنجیت کمار کا بیان حکومت کا موقف نہیں ہے اور سپریم کورٹ میں سرکاری موقف ابھی پیش نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ سالیسٹر جنرل رنجیت کمار کا کہنا تھا کہ پنجاب کے راجہ نے کوہ نور ہیرا برطانوی حکومت کو اپنی مرضی سے دیا تھا اور اسے چُرا کر نہیں لے جایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ ایک غیر سرکاری ادارے کی دائرکردہ پٹیشن کی سماعت کر رہی ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ عدالت حکومت کو کوہ نور واپس لانے کی ہدایت دے۔

حکومت کے موقف کے برعکس ایک نظریہ یہ ہے کہ برطانوی حکومت نےسکھوں کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد راجہ رنجیت سنگھ کے نابالغ جانشین دلیپ سنگھ سے یہ ہیرا حاصل کیا تھا۔

عدالت نے اس سلسلے میں حکومت کو ایک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ حکومت اگر اپنے موقف پر قائم رہتی ہے تو اس کے لیے مستقبل میں کوہ نور کو واپس لانے کے راستے بند ہو جائیں گے۔

فی الحال یہ ہیرا برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی ملکیت ہے اور ملکہ کے تاج میں جڑا ہوا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 105 قیراط کا یہ ہیرا کبھی دنیا کا سب سے بڑا ہیرا تھا، لیکن بعد میں اسے تراش کر چھوٹا کر دیا گیا تھا۔

حکومت کے مطابق راجہ رنجیت سنگھ نے 1850 میں یہ ہیرا سامراجی حکومت کو تحفے کے طور پر پیش کیا تھا۔

مورخین کے مطابق کوہ نور معاہدہ لاہور کے بعد برطانوی تحویل میں پہنچا تھا۔ یہ معاہدہ ان جنگوں کے بعد طے پایا تھا جن کے نتیجے میں پنجاب برطانیہ کے کنٹرول میں آگیا تھا۔

اسی بارے میں