’پاکستانی لڑکی سے عشق کی قیمت 11 سال قید‘

Image caption عدالت سے بری ہونے کے دو برس بعد جاوید نے اپنی محبت کی اس غیرمعمولی آپ بیتی کو بی بی سی سے شیئر کیا

کہا جاتا ہے کہ عشق میں پڑنا خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔

لیکن رام پور کے رہنے والے محمد جاوید کے وہم وگمان بھی یہ نہیں ہوگا کہ انہیں اپنی ہی ایک پاکستانی رشتے دار سے محبت کرنے کا صلہ یہ ملے گا کہ دہشت گردی کے الزام میں انھیں ایذائیں دی جائیں گی اور ساڑھے گیارہ برس جیل کی سزا کاٹنی ہوگی۔

عدالت سے بری ہونے کے دو برس بعد جاوید نے اپنی محبت کی اس غیرمعمولی آپ بیتی کو بی بی سی سے شیئر کیا۔ انھوں نے اپنے عشقیہ خطوط دکھائے اور بتایا کہ کیسے انھیں انڈین خفیہ اداروں نے اغوا کر کے ان پر تشدد کیا اور جس پیار کے لیے وہ برسوں قید میں رہے بالآخر وہ بھی نہیں ملا۔

جاوید اب 33 برس کے ہیں۔ مبینہ سے ان کی پہلی ملاقات سنہ 1999 میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ اپنی ماں کو لے کر کراچی گئے تھے۔ جاوید کے چچا اور خاندان کے کئی دیگر افراد سنہ 1947 میں پاکستان ہجرت کر گئے تھے اور انہیں لوگوں سے ملاقات کے لیے یہ رام پور سے کراچي گئے تھے۔

جاوید نے بتایا: ’ملاقات کے ایک ماہ کے اندر ہی ہم نے ایک دوسرے سے اپنے پیار کا اظہار کر دیا تھا۔ ہماری ملاقات خاندان کی ایک شادی میں ہوئي جہاں اور بھی بہت سی لڑکیاں لڑکے تھےاور شاید انہیں عدم تحفظ کا احساس ہوا۔ وہ مجھے ایک کونے میں لے گئیں اور کہا کہ چونکہ وہ مجھے سے پیار کرتی ہیں اس لیے میں کسی اور لڑکی کی طرف نہ دیکھوں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں بھی ایسا ہی محسوس کرتا ہوں۔‘

Image caption جاوید نے اب پھر زندگی شروع کرنے کی کوشش کی ہے

بس اس طرح کراچی میں جاوید کے ساڑھے تین ماہ کے قیام کے دوران یہ محبت پروان چڑھتی گئی۔

وہ کہتے ہیں: ’وہ گھر سے کالج جانے کا بہانہ کر کے نکلتیں اور پھر میں کالج سے باہر ان سے ملتا اور پھر ہم سفاری پارک جاتے اور وہاں بیٹھتے تھے۔‘

انڈیا واپس آنے کے بعد سے پیشے سے ٹی وی کے میکنک جاوید اپنی تنخواہ کی تمام رقم مبینہ کو فون کرنے پر خرچ کر تے جسے وہ پیار سے اب بھی گڑیا کہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’اس وقت موبائل فون نہیں تھے اس لیے میں ٹیلی فون بوتھ سے انہیں فون کیا کرتا تھا۔ یہ بہت مہنگا ہوتا تھا ان سے بات کرنے کے لیے اس وقت ایک منٹ کے لیے 62 روپے لگتے تھے۔‘

ایک برس بعد جاوید نے پھر سے دو ماہ کے لیے کراچی کا دورہ کیا۔ اب دونوں کے اہل خانہ بھی اس پیار و محبت کے چکر سے آگاہ ہو چکے تھے۔ اس رشتے پر تو کسی کو اعتراض نہیں تھا لیکن مبینہ کے اہل خانہ چاہتے تھے کہ جاوید پاکستان منتقل ہوجائیں جبکہ اس کے بر عکس جاوید کی فیملی چاہتی تھی کہ مبینہ انڈیا آجائیں۔

Image caption جاوید بتاتے ہیں کہ ان کے خطوط دس صفحات مشتمل ہوتے اور میں 12 صفحے کا جواب دیتا، اسے لکھنے میں مجھے بارہ دن لگتے تھے

جاوید کہتے ہیں: ’اس بار جب میں واپس آنے لگا تو اس نے کہا، آپ جائیے میں اپنے والدین کو قائل کر لوں گی اور دوسری بار آکر مجھے ساتھ لے کر چلنا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اب میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آپاؤں گا اور اسے کبھی دوبارہ نہیں دیکھ پاؤں گا۔‘

اس کے بعد اگلے دو برس تک جاوید مبینہ سے فون پر رابطے میں رہے اور دونوں نے ایک دوسرے کو طویل خطوط لکھے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ جاوید کو اردو زبان بہت کم آتی تھی جس میں مبینہ انہیں خطوط لکھتی تھیں اس لیے جاوید نے خط پڑھوانے کے لیے اپنے دوست مقصود کی مدد لی۔

ان کے ایک دوسرے دوست تاج محمد اردو میں تحریر کردہ خطوط کو ہندی میں ترجمہ کرتے تھے جنہیں جاوید بار بار پڑھا کرتے۔ مقصود ہی جاوید کی طرف سے اردو میں مبینہ کو جواب لکھا کرتے تھے۔

جاوید بتاتے ہیں: ‎’ان کے خطوط دس صفحات مشتمل ہوتے اور میں 12 صفحے کا جواب دیتا۔ اسے لکھنے میں مجھے بارہ دن لگتے تھے۔‘

اور پھر ایک دن اچانک پوری دنیا ہی بدل گئی۔

Image caption جاوید کہتے ہیں کہ وہ مبینہ کو اپنے ذہن سے تو نکالنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن دل سے نہیں نکال پائے اور اب بھی اس سے پیار کرتے ہیں

جاوید کہتے ہیں: ’مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے۔ یہ 10 اگست 2002 کا سنیچر کا دن تھا۔ میں اپنی دکان میں تھا جب ایک آدمی آیا اور ٹی وی درست کرنے کے لیے ساتھ چلنے کو کہا۔ میں نے کہا میں گھروں میں جا کر ٹی وی نہیں بناتا ہوں۔ لیکن ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ بہت پریشان ہے اس لیے میں چلنے کے لیے راضی ہوگیا۔‘

وہ دکان سے کچھ ہی میٹر دور گئے ہوں گے کہ ایک کار آئی جس کا دروازہ کھلا اور بس انھیں اغوا کر لیا گيا۔

جاوید بتاتے ہیں کہ انہیں پہلے لگا کہ شاید یہ مجرم پیشہ ور افراد ہیں لیکن پھر ان کی باتیں سن کر وہ سمجھ گئے کہ یہ پولیس اہل کار ہیں اور ان کی مشکل وہیں کار میں ہی شروع ہوگئی۔

وہ بتاتے ہیں: ’انھوں نے میرا پرس، گھڑی اور دیگر چيزيں لے لیں۔ میرے پاس مبینہ کے دو خط بھی تھے اور وہ بھی انھوں نے لے لیے۔ انہوں نے کہا اگر میں چپ نہیں رہا تو وہ مجھے شوٹ کر دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے خاندان کو بھی اغوا کر لیا گيا ہے اور دوسری کار میں ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔‘

Image caption جاوید اس بات سے غصہ ہیں کہ وہ بے قصور تھے اس کے باوجود ان کے ساتھ یہ سلوک ہوا تو اس کا معاوضہ کیوں نہیں ملا اور قصورواروں کو سزا کیوں نہیں ملی

’میں رو رو کر، چیخ چلّا کر ان سے رحم کرنے کی گزارش کر رہا تھا۔‘

جاوید کے آنکھوں پر پٹّی باندھ دی گئی اور جب وہ کھولی گئی تو انہوں نے اپنے آپ ایک کمرے میں پایا جہاں اگلے تین روز تک انہیں ایذائیں دی گئیں۔

’انہوں نے مجھے بہت مارا۔ مجھے الٹا لٹکا دیتے اور میرا سر ایک پانی کے ٹب میں ڈبوتے تھے۔ یہ بہت تکلیف دہ تھا۔ جب میری یہ برداشت سے باہر ہوگيا تو میں نے ان سے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ وہ مجھے قتل کر دیں۔‘

جاوید پر پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا گیا اور پولیس نے دعوٰی کیا کہ وہ وزارت خارجہ اور دفاع کے خفیہ راز اسلام آباد کو پہنچاتے رہے ہیں۔

تین روز بعد انہیں رام پور دوبارہ واپس لایا گيا اور ان کے دوستوں مقصود، ممتاز میاں اور تاج محمد کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

دوسرے دن ان افراد کو عدالت میں پیش کیا گيا اور صحافیوں کے سامنے خطرناک قسم کے دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گيا جنہوں نے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی تھی۔

حکام کا دعوی تھا کہ جاوید نے دو بار کراچی کا دورہ آئی ایس آئی کے حکام سے ملاقات اور خفیہ راز پہنچانے کے لیے کیا تھا۔ ان پر پوٹا کے تحت مقدمہ چلا۔

Image caption ان کی ماں کہتی ہیں کہ اگر کراچی جانے کے لیے وہ اس سے اصرار نہ کرتی تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس مصیبت سے بچ جاتا

جاوید کو قید تنہائی میں رکھا گیا اور بہت ایذائیں دی گئیں۔ وہ اپنے بہترین دوستوں سے جدا ہوگئے لیکن ان کے پیار کی یادیں ہی جیل کی ساتھی تھیں جن کے سہارے وہ اپنا وقت گزارتے۔

وہ کہتے ہیں: ’میں جیل میں دوسرے قیدیوں کو مبینہ کی کہانی سناتا تھا۔ کیسے مجھے پیار ہوا، اس کی عادتیں، کیسے وہ مجھے چڑاتی تھی۔ اس سے جیل میں مجھے بہت ہمت ملتی تھی۔‘

جاوید کے والدین کے لیے بھی یہ بہت مشکل وقت تھا۔ ان کی ماں افشاں بیگم تو اس کے لیے خود کو ذمہ دار مانتی ہیں۔

کہتی ہیں: ’اگر کراچی جانے کے لیے میں اس سے اصرار نہ کرتی تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس مصیبت سے بچ جاتا۔‘

ان کے والد نے اپنے بیٹے کی آزادی کے لیے مقدمہ لڑا جس کے لیے انھیں اپنی زمین، جائیداد اور زیور تک فروخت کرنے پڑے۔

بالآخر 19 جنوری 2014 کو انہیں رہا کر دیا گيا اور جج نے ان پر عائد تمام الزامات سے انہیں یہ کہہ کر بری کیا کہ ان کے خلاف ثبوت نہیں ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگي کے قیمتی سال جیل میں گزر گئے۔

گذشتہ دو برس جاوید اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے گھر کے پاس ہی ایک ٹی وی ریپیئر کی دکان کھولی ہے۔

وہ اس بات پر غصہ کرتے ہیں کہ وہ بے قصور تھے اس کے باوجود ان کے ساتھ یہ سلوک ہوا تو اس کا ہرجانہ کیوں نہیں ملا اور قصورواروں کو سزا کیوں نہیں ملی۔

مبینہ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ وہ ان سے بہت دنوں سے رابطے میں ہی نہیں ہیں اور شاید ان کی شادی ہو چکی ہوگی۔

وہ بتاتے ہیں کہ وہ مبینہ کو اپنے ذہن سے تو نکالنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن دل سے نہیں نکال پائے۔

’میں اب بھی اس سے پیار کرتا ہوں لیکن کال کرنے سے ڈرتا ہوں۔ کیا ہوگا اگر وہ پھر میرے یا میرے خاندان کے پیچھے پڑ جائیں۔‘

اسی بارے میں