بنگلہ دیش میں ایک اور سیکولر پروفیسر قتل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اے ایف ایم رضاء الکریم صدیق ملک کے مغرب میں واقع راج شاہی یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر تھے

بنگلہ دیش میں ایک پروفیسر کو قتل کر دیا گیا ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکت بھی حال ہی میں ہونے والی سیکولر بلاگرز کی ہلاکتوں کے زمرے میں آتی ہے۔

58 سالہ اے ایف ایم رضا الکریم صدیق ملک کے مغرب میں واقع راج شاہی یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر تھے۔

٭ بنگلہ دیش میں سیکولر بلاگر کے قتل پر طلبہ کا احتجاج

٭ بنگلہ دیش: آزاد خیال بلاگر کے قاتلوں کو سزائے موت

جب وہ یونیورسٹی سے اپنے گھر جا رہے تھے تو چند نامعلوم افراد نے ان پر چھرے اور چاقو سے حملہ کر دیا۔

اس سے قبل گذشتہ سال چار اہم بلاگروں کو چاقو اور چھرے کے حملے میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔

نائب پولیس کمیشنر ناہید الاسلام نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پروفیسر صدیق مختلف قسم کے ثقافتی پروگرامز میں شریک رہتے تھے اور انھوں نے باگ مارا میں ایک سکول قائم کیا تھا۔ یہ علاقہ کالعدم تنظیم جمیعت المجاہدین (جے بی ایم) کا کبھی گڑھ کہا جاتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption بلاگروں کے قتل پر مظاہرے کیے گئے ہیں اور سزائیں بھی دی گئی ہیں

گذشتہ سال جے بی ایم کے چند اراکین کو اطالوی کیتھولک پادری پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا گيا تھا۔

اس سے قبل رواں ماہ کے اوائل میں قانون کے ایک بنگلہ دیشی طالب علم کو دارالحکومت ڈھاکہ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گيا تھا۔

جن چار بلاگروں کو گذشتہ سال قتل کیا گیا ان کے نام ان 84 افراد کی فہرست میں شامل تھے جو خدا کے منکر تھے اور فہرست کو جے بی ایم نے سنہ 2013 میں جاری کیا تھا۔

اس کے علاوہ ملک میں شیعہ، صوفی، احمدی مسلمانوں اور مسیحی اور ہندو اقیلتوں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دو غیر ملکی بھی نشانہ بنائے گئے ہیں۔

نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ نے ان میں سے بعض ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن آزادانہ طور پر ان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسی بارے میں