بنگلہ دیش: ہم جنس پرستوں کے رسالے کے مدیر قتل

امریکہ نے بنگلہ دیش میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے ليےکام کرنے والے کارکن سمیت دو افراد کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان نے اس واقعے کو وحشیانہ اور ناقابل معافی قرار دیا ہے۔

پروفیسر کا قتل، طالبِ علم حراست میںبنگلہ دیش میں ایک اور سیکیولر پروفیسر قتل

پیر کو بنگلہ ديش ميں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے ليے کام کرنے والے ايک کارکن زولحاج منان سميت دو افراد کو ہلاک کر ديا گيا۔

پولیس کے مطابق کچھ مسلح افراد زولحاج منان کے فيلٹ ميں داخل ہوئے اور اُنھيں اُن کے دوست سميت قتل کر ديا۔

زولحاج منان ’روپ بان‘ نامي جريدے کے ادارتی بورڈ ميں شامل تھے جو کہ بنگلہ ديش ميں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے بارے ميں پہلا جريدہ ہے۔

زولحاج منان ڈھاکہ میں امریکی سفارتخانے کے ساتھ بھی منسلک رہ چکے ہیں۔ بنگلہ دیش میں امریکہ کی سفیر نے ان کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

امریکی سفیر مارسیا برنیکٹ کا کہنا تھا کہ ’میں زولحاج منان اور ایک دوسرے نوجوان بنگلہ دیشی کے بہیمانہ قتل پر بہت رنجیدہ ہوں۔‘

’ہم دہشتگردی کی اس بےمعنی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور سخت ترین الفاظ میں بنگلہ دیش کی حکومت پر زور دیتے ہیں مجرموں کو فوری طور پر پکڑے۔‘

پولیس نے بتایا ہے کہ جب حملہ آوروں نے ڈھاکہ میں زولحاج منان کو ان کے فلیٹ میں داخل ہو کر نشانہ بنایا تو وہاں موجود ایک دوسرا شخص بھی ہلاک جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔

زولحاج منان کی ہلاکت سے دو دن پہلے مبینہ اسلامی شدت پسندوں نے یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو جان سے مار دیا تھا۔

بی بی سی کی بنگالی سروس کے مدیر صابر مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ اگرچہ ’روپ بان‘ سے منسلک افراد اپنی شناخت کو خفیہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن انھیں یہ نہیں لگتا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ صابر مصطفیٰ کے بقول حکومت نے اس رسالے کی کبھی مذمت نہیں اور اسے بنگلہ دیش میں موجود مختلف ممالک کے سفارتخانوں کی مدد بھی حاصل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب بنگلہ دیش میں دن بدن مبینہ انتہاپسندوں کا حوصلہ بڑھ رہا ہے کہ وہ کسی کو بھی قتل کر سکتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتا۔

دوسری جانب اتوار کو بنگلہ دیش کے سب سے زیادہ مقبول بلاگر عمران سرکار کا کہنا تھا کہ انھیں بھی موت کی دھمکی ملی ہیں۔

سنہ 2013 میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف بڑے بڑے مظاہروں کی قیادت کرنے والے عمران سرکار کا کہنا تھا کہ انھیں ’ٹیلی فون پر دھمکی دی گئی ہے کہ بہت جلد انھیں بھی ہلاک‘ کر دیا جائے گا۔

اس سے قبل سنیچر کے روز قتل ہونے والے پروفیسر رضاالکریم صدیق کی بیٹی نے کہا تھا کہ ان کے والد ملحد نہیں تھے۔

پروفیسر رضاالکریم صدیق بنگلہ دیش کی ان متعدد سیکیولر شخصیات میں شامل تھے جنھیں حالیہ برسوں میں ہلاک کیا گیا ہے۔ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس قتل میں اس کا ہاتھ ہے۔

ایک بیان میں شدت پسند تنظیم نے پروفیسر صدیق پر الزام لگایا تھا کہ وہ ’لادینیت کا مطالبہ‘ کر رہے تھے۔

تاہم ان کی صاحبزادی رضوانہ حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد خدا پر یقین رکھتے تھے اور انھیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہے کہ انھیں کیوں نشانہ بنایا گیا۔

58 سالہ پروفیسر صدیق راج شاہی یونیورسٹی میں انگریزی پڑھاتے تھے۔ ان پر اس وقت خنجروں سے حملہ کیا گیا جب وہ یونیورسٹی جا رہے تھے۔

صدیق چوتھے پروفیسر ہیں جنھیں حالیہ برسوں میں مشتبہ اسلامی شدت پسندوں نے قتل کیا ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ سال چار سیکیولر بلاگر بھی قتل کیے جا چکے ہیں۔

جن چار بلاگروں کو گذشتہ سال قتل کیا گیا ان کے نام ان 84 افراد کی فہرست میں شامل تھے جو خدا کے منکر تھے اور فہرست کو جے بی ایم نے سنہ 2013 میں جاری کیا تھا۔

اس کے علاوہ ملک میں شیعہ، صوفی، احمدی اور مسیحی اور ہندو اقلیتوں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں