’پاکستان میں را کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار‘

تصویر کے کاپی رائٹ PHC
Image caption پاکستانی سیکریٹری خارجہ اعزاز چودھری صرف ایک روز کے لیے دہلی آئے ہیں

پاکستان نے کراچی اور بلوچستان میں انڈین خفیہ ایجنسی را کی مبینہ مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی تخریبی سرگرمیاں تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو متاثر کرتی ہیں۔

یہ بات پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے منگل کو پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری اور ان کے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کے درمیان دہلی میں بات چیت کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہی گئی ہے۔

دونوں سفارت کاروں کے درمیان یہ باہمی مذاکرات بھارتی وزرات خارجہ کے صدر دفتر ساؤتھ بلاک میں ہوئے۔

دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے بلوچستان سے گرفتار ہونے والے انڈین جاسوس کلبھوشن یادو کے بارے میں پاکستان کی تشویش سے بھارتی حکام کو آگاہ کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کا جلد از جلد بحال ہونے چاہییں۔

بیان کے مطابق سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ اعلیٰ سطح پر ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں ممالک جامع اور بامعنی مذاکرات کے لیے پرعزم ہیں۔

سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے بھارتی حکام کی جانب سے سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے دھماکوں میں ملوث ملزمان کو رہا کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دونوں خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان جنوری میں باہمی مذاکرات ہونے والے تھے لیکن وہ پٹھان کوٹ کے فضائی اڈے پر حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے تھے

ملاقات کے بعد پاکستانی ہائی کمیشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات دو طرفہ معاملات پر حالیہ پیش رفت پر گفتگو کرنے کا ایک نادر موقع ثابت ہوئی اور دونوں افسران نے جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر گفتگو کی۔

اس ملاقات کے بعد بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے بھی بیان جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے کہا کہ پاکستان پٹھان کوٹ پر حملے کی تفتیش اور ممبئی پر حملے سے متعلق مقدمات کو جلد سے جلد انجام تک پہنچائے اور باہمی مذاکرات پر دہشت گردی کے اثر سے آنکھیں نہ موندے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں سیکریٹریوں نے وہ معاملات اٹھائے جن پر انھیں تشویش ہے۔

ان کے مطابق انڈیا نے مطالبہ کیا کہ بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن یادو سے سفارت کاروں کو ملنے کی اجازت دی جائے ’جنھیں اغوا کر کے پاکستان لے جایا گیا ہے۔‘

پاکستان کے خارجہ سیکریٹری افغانستان پر ہونے والی سالانہ ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی آئے تھے تاہم یہ ملاقات اس کانفرنس سے ہٹ کر ہوئی۔

یہ پاکستان میں مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کی گرفتاری کے بعد پہلے مذاکرات ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان جنوری میں باہمی مذاکرات ہونے والے تھے لیکن وہ پٹھان کوٹ کے فضائی اڈے پر حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے تھے

اسی بارے میں