کشمیر، پٹھان کوٹ اور جاسوسی میں الجھ گئی بات چیت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے خارجہ سیکریٹری اعزاز احمد چودھری نے اپنے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر سے مذاکرات میں کشمیر کے مسئلے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا ایشو دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی تمناؤں کے مطابق منصفانہ طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کے ہائی کمیشن کی طرف سے جاری کیےگئے بیان کے مطابق اعزاز چودھری نے بھارت کی خفیہ سروس ’را‘ کے مبینہ ایجنٹ کلبھوشن جادھو کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے بلوچستان اور کراچی میں تخریبی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ’را‘ کے ملوث ہونے پر پاکستا ن کی گہری تشویش سے ایس جے شنکر کو واقف کرایا۔

پاکستانی سفارتکار نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیوں سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو زک پہنچ رہی ہے۔ بھارت کے خارجہ سیکریٹری ایس جس شنکر نے پاکستان میں کسی طرح کی تخریب کاری میں بھارت کے ملوث ہونے سے قطعی طور پر انکار کیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بات چیت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ خارجہ سکریٹری نے بھارتی بحریہ کے ایک سابق افسر کلبھوشن جادھو کے ’اغوا‘ اور حراست میں لیے جانےپر تشویش ظاہر کی اور ان تک قانونی رسائی حاصل کرنے کی بات کی۔

ترجمان کے مطابق انھوں نے پٹھان کوٹ حملے کی تفتیش میں پیشرفت کے بارے میں دریافت کیا اور کہا بھارت اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ بھارت کے خلاف پاکستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کا دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر پڑتا ہے۔

اعزاز چودھری نے اپنی بات چیت میں سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکے کا بھی ذکر کیا اور اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بھارت میں ایسی فضا بنائی جا رہی ہے جس میں سوامی اسیم آنند سمیت سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکے کے اصل ملزموں کو رہا کیا جا سکے۔

پاکستان کے خارجہ سیکریٹری نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی قیادت کی اعلیٰ سطح پر حالیہ دنوں میں ملاقاتوں سے ایک بہتر فضا پیدا ہوئی ہے اور اس سے ایک وسیع اور بامعنی مذاکرات شروع کرنے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ مذکرات جلد شرورع کرنے کے لیے بھارت کے خارجہ سیکریٹری کو پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے۔ تاہم آئندہ مذاکرات کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔

پاکستان کے خارجہ سیکریٹری اعزاز احمد چودھری افغانستان پر ’ہارٹ آف ایشیا‘ کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لیے دلی آئے ہیں۔ دونوں خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان بات چیت اس کانفرنس سے الگ ہٹ کر ہوئی ہے ۔