پاکستان سے متصل انڈین سرحد پر لیزر باڑ نصب

تصویر کے کاپی رائٹ ROBIN SINGH
Image caption پنجاب اور جموں سمیت دیگر سرحدی مقامات پر مجموعی طور پر 45 لیزر باڑیں نصب کی جائیں گی

انڈیا میں حکام نے پاکستان سے متصل سرحد پر نگرانی بڑھانے کے لیے 12 مقامات پر ’لیزر والی باڑ‘ نصب کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

حکام کے مطابق ان میں سے آٹھ مقامات پر لیزر سے نگرانی کے نظام نے کام کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔

٭پاک بھارت سرحد پر لیزر باڑ نصب کرنے کا فیصلہ

انڈین روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس کے حوالے سے بتایا ہے کہ لیزر کی اس باڑ کو پاکستان سے متصل انڈین پنجاب میں سرحد پر لگایا گیا اور اس کا مقصد غیر قانونی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور اس کی روک تھام کرنا ہے۔

بارڈر سکیورٹی فورس کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق پنجاب میں آٹھ حساس سرحدی مقامات پر انفراریڈ اینڈ لیزر بیم نظام نے کام کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ چار دیگر مقامات پر نصب لیزر باڑیں آئندہ چند دنوں میں کام شروع کر دیں گی۔

بی ایس ایف کے حکام کا کہنا ہے کہ ’لیزر باڑ نے کام کرنے شروع کر دیا ہے اور اس کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد سرحد پر ہونے والی غیر قانونی نقل و حمل کا پتہ لگانا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ لیزر سینسرز کو سیٹیلائٹ سے جڑے کمانڈ سسٹم سے منسلک کیا گیا ہے اور یہ رات کے وقت اور دھند کے دوران بھی کام کریں گے۔

بارڈر سکیورٹی فورس جموں و کشمیر، پنجاب، راجستھان اور گجرات میں انڈین سرحد کی نگرانی کی ذمہ دار ہے اور سرحدوں پر نصب لیزر باڑ کی نگرانی کی ذمہ داری بھی اُسے ہی سونپی گئی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کا کہنا ہے کہ پنجاب اور جموں سمیت دیگر سرحدی مقامات پر مجموعی طور پر 45 لیزر باڑیں نصب کی جائیں گی۔

دو سال قبل سرحد پر اُن مقامات پر پر لیزر کی باڑ لگانے کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا جہاں خار دار باڑ نہیں لگ سکتی۔

پٹھان کوٹ ایئر بیس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد انڈین پنجاب کی وزاتِ داخلہ اور بارڈر سکیورٹی فورس نے لیزر باڑ کے منصوبے پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا ہے۔

اس حملے کی تحقیقات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس حملے میں دہشت گرد مبینہ طور پر پاکستان سے سرحد عبور کر کے انڈیا میں داخل ہوئے تھے۔

اسی بارے میں