بنگلہ دیش میں ہندؤ درزی کا قتل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ نکھل کو مبینہ طور پر اسلام کے خلاف بیان بازی کے سلسلے میں سنہ 2012 میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا

بنگلہ دیش میں پولیس کے مطابق مرکزی ضلعے میں ایک ہندؤ درزی کو قتل کردیا گیا ہے جنھیں ماضی میں مبینہ طور پر اسلام کی توہین کے الزام میں گرفتار کیاگیا تھا۔

حالیہ مہینوں میں ملک میں اس طرح کے قتل کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔

سنیچر کے روز دوپہر بعد نکھل جودر نامی شخص پر اس وقت حملہ کیا گيا جب وہ تنگیل میں اپنی دوکان کے باہر بیٹھے ہوئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نکھل کو مبینہ طور پر اسلام کے خلاف بیان بازی کے سلسلے میں سنہ 2012 میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

بنگلہ دیش میں اسلامی انتہا پسندوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے حالیہ دنوں میں اس طرح کے کئی قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

گذشتہ پیر کو ہی ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک کار کن اور ایل جی بی ٹی نامی میگزین کے مدیر ذوالحج منّان اور ان کے ایک ساتھی کو ڈھاکہ میں انھیں کے فلیٹ میں حملہ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایل جی بی ٹی نامی میگزین کے مدیر ذوالحج منّان کے جنازے میں لوگوں کی بڑي تعداد نے شرکت کیا تھا

اس قتل کی ذمہ داری نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی لیکن بنگلہ دیش کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے ملک میں اس گروپ کا کوئی وجود نہیں ہے۔

اس واقعے سے دو روز قبل ہی یونیورسٹی کے پروفیسر رضا الکریم صدیقی کے قتل کی ذمہ داری بھی اسی تنظیم نے قبول کی تھی۔

بنگلہ دیش میں‎ کالعدم تنظیم جمیعت المجاہدین (جے بی ایم) بھی سرگرم ہے۔ گذشتہ برس جے بی ایم کے چند اراکین کو اطالوی کیتھولک پادری پر حملے کے الزام میں گرفتار بھی کیا گيا تھا۔

اس سے قبل رواں ماہ کے اوائل میں قانون کے ایک بنگلہ دیشی طالب علم کو دارالحکومت ڈھاکہ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گيا تھا۔

جن چار بلاگروں کو گذشتہ سال قتل کیا گیا ان کے نام ان 84 افراد کی فہرست میں شامل تھے جن کی فہرست جے بی ایم نے سنہ 2013 میں جاری کی تھی۔

اس کے علاوہ ملک میں شیعہ، صوفی، احمدی مسلمانوں اور مسیحی اور ہندو اقیلتوں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دو غیر ملکی بھی نشانہ بنائے گئے ہیں۔

نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ نے ان میں سے بعض ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن آزادانہ طور پر ان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسی بارے میں