ایران میں انتخابات کا دوسرا مرحلہ، رجعت پسندوں کو شکست

تصویر کے کاپی رائٹ Tasnim
Image caption آزاد امیدواروں نے کل 30 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں اور ان میں بیشتر اصلاح پسند ہیں

ایران میں پارلیمانی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اعتدال پسندوں اور اصلاح پسندوں کو پارلیمان میں گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ میں پہلی بار اکثریت حاصل ہوئی ہے۔

صدر حسن روحانی کے حامیوں نے کل نشتستوں میں سے 42 فیصد جیتی ہیں، جو واضح اکثریت سے معمولی کم ہیں تاہم قانون سازی کے لیے کافی ہیں۔

٭ اصلاح پسندوں نے تہران کی تمام نشستیں جیت لیں

٭ ایرانی انتخابات میں اصلاح پسندوں کی امیدیں

آزاد امیدواروں نے کل 30 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں اور ان میں بیشتر اصلاح پسند ہیں۔

بی بی سی نامہ نگار کے مطابق رجعت پسندوں کو ایک چوتھائی سے بھی کم نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔

جمعے کو انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ان حلقوں میں پولنگ منعقد ہوئی تھی جہاں فروری میں پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار 25 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

ان نتائج کو صدر روحانی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے اور ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے جانے کی توثیق کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

فروری میں ہونے والے مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات میں بھی اصلاح پسندوں نے نشستیں حاصل کی تھی۔ خیال رہے کہ مجلس خبرگان رہبری ملک کے سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جمعے کو انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پولنگ منعقد ہوئی تھی

برطانوی تھنک ٹینک چیتہم ہاؤس سے وابستہ ایسوسی ایٹ فیلو ڈاکٹر صنم وکیل کا کہنا ہے کہ آزاد قانون سازوں کی طاقت سے ایرانی سیاست میں مسابقت پیدا ہوسکتی ہے۔

انھوں نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’یہ ہر معاملے پر ہوگا۔‘

’میرا نہیں خیال کہ ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ آزاد ارکان کو گروہ کسی سیاسی، معاشی اور ثقافتی روشن خیالی کا حامی ہوگا۔‘

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ پارلیمانی انتخابات سے ایرانی پارلیسیوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع نہیں ہیں تاہم یہ صدر روحانی کو معاشی اور معاشرتی اصلاحات کی جانب راغب کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں