دہلی پر ’حملے‘ کا منصوبہ، 12 افراد گرفتار

پٹھان کوٹ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پٹھان کوٹ حملے میں سات فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے

بھارت میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے ایک شدت پسند اسلامی تنظیم کے 12 افراد کو حراست میں لیا ہے جو دہلی پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق ان افراد کا مبینہ طور پر جیش محمد سے تعلق ہے۔ پاکستان میں قائم جیشِ محمد پر انڈیا الزام لگاتا ہے کہ جنوری میں انڈین ایئر بیس پر کیے جانے والے حملے کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔ دو جنوری کو ہونے والے اس حملے میں سکیورٹی کے سات اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

ان افراد کو دہلی اور قریبی ریاست اتر پردیش میں مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان میں سے کچھ گھریلو ساخت کے بم بنا رہے تھے۔

یاد رہے کہ پٹھان کوٹ ایئر بیس پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد پاکستان کی حکومت نے بھی کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو تفتیش کے لیے حفاظتی تحویل میں لے لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس نے دہلی اور اتر پردیش کے مختلف مقامات سے لوگوں کو گرفتار کیا

پاکستان نے پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی تھی۔ کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے دفاتر کو سیل کیا گیا اور بہت سے کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

دریں اثنا انڈیا میں ایک پارلیمانی پینل نے انڈین ایئر فورس کی بیس پرحملے کو روکنے میں ناکامی کے لیے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

ایک رپورٹ میں پینل کا کہنا تھا کہ ملک میں انسدادِ دہشت گردی کے ادارے اور ایئر بیس کی سکیورٹی مضبوط نہیں تھی۔

پینل کا کہنا تھا کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اس حملے سے پہلے ہی ایک الرٹ جاری کیا گیا تھا اس کے باوجود بھی دہشت گرد کس طرح اس انتہائی سکیورٹی والے ایئر بیس میں داخل ہو کر حملہ کرنے میں کامیاب رہے۔

کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ پٹھان کوٹ کے ایس پی جنھیں دہشت گردوں نے اغوا کے بعد رہا کر دیا تھا ان کی جانب سے ملنے والی ٹھوس اطلاعات اور دہشت گردوں اور ان کے ہینڈلرز کے درمیان بات چیت کا پتہ لگنے کے باوجود بھی کہ وہ دفاعی تنصیبات پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، سکیورٹی ایجنسیاں وقت پر نہ تو تیاری کر پائیں اور نہ اس حملے کا صحیح طریقے سے مقابلہ کر پائیں۔

اسی بارے میں