ریلی میں حجاب پوش لڑکیوں کی شرکت پر تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کچھ مسلمان تنظیمو کی جانب سے لڑکیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس عمل کو غیراسلامی قرار دیا

انڈین ریاست کیرالا کے شہر پونانی میں سیاسی جماعت ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے ایک امیدوار کی انتخابی مہم میں شامل لڑکیوں کی حجاب والی تصویر جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر مسلمان خواتین کی آزادی پر بحث چھڑ گئی ہے۔

ریلی کی تصویر میں لڑکیوں کو ایک گروہ کو وائی پی آئی کے امیدوار ایم ایم شاکر کے حق میں بینر اٹھائے اور نعرے مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس پر تنازع اس وقت شروع ہوا جب کچھ مسلمان تنظیموں کی جانب سے اس عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غیراسلامی قرار دیا گیا۔

جلد ہی ان لڑکیوں کے خلاف آن لان برا بھلا کہنے کی مہم شروع ہوگئی جس کے ردِ عمل میں روشن خیال مسلمانوں کی جانب سے لڑکیوں کے حق میں آواز بلند کی گئی۔

ایم ایم شاکر کا کہنا ہے کہ وہ لڑکیاں جو اس ریلی کا حصہ تھیں انھیں کئی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے اور انھیں مستقبل میں ایسی مہمات سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

نوربینہ راشد ریاست میں خواتین کے کمیشن کی رکن اور انڈین یونین مسلم کے خواتین کے ونگ ویمنز لیگ کی قومی جنرل سیکریٹری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم خواتین کی سیاسی آزادی کو سلب کرنے حق میں نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’ان کی ریلی میں شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سیاسی طور پر باشعور ہیں اور معاشرے کو ان کی مخالفت کرنے اور گالی دینے کے بجائے انھیں تسلیم کرنا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ان لڑکیوں کے خلاف آن لان برا بھلا کہنے کی مہم شروع ہوگئی ہے

سماجی کارکن وی پی راجینا نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا ہے کہ یہ انتہائی بدقسمتی کا مقام ہے کہ علما اور دیگر مسلمان تنظیمیں مسلمانوں کو چار دیواری کے اندر رہنے کا مشورہ دے رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’مسلمان خواتین جنھیں نے انتخابی ریلی میں حصہ لیا اور پردے میں ملبوس لڑکیاں جنھوں نے اداکار پرتھوی راج کے ساتھ سیلفی لی تھی، ان پر زبانی حملے خواتین مخالف معاشرے کی علامات ہیں۔ ہمارے ہاں مسلمانوں کی فلاح کے لیے بہت ساری تنظیمیں ہیں۔ لیکن وہ خواتین کے آزادی کے حق میں کھڑے ہونے سے قاصر ہیں۔ وہ جو لڑکیوں کو انتخابی ریلی میں شامل ہونے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہ اس مسلمان نوجوان کو مشورہ دینے کے تیار نہیں ہیں جس نے حال ہی میں ایک دلت لڑکی کو ریپ کیا تھا۔‘

اسی بارے میں