بھارت میں سونا لوٹنے کے الزام میں فوج کے کرنل گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Dilip Sharma
Image caption کرنل جسجیت سنگھ نے جدید ہتھیاروں سے لیس اپنے جوانوں کو سمگلنگ کے تحت لائے گئے سونے کو لوٹنے کی ہدایت دی تھی

انڈین فوج کے ایک کرنل کو شمال مشرقی ریاست میزورم کے دارالحکومت ایزوال میں کروڑوں روپے کا سونا لوٹنے کے الزام میں گرفتار کیا گيا ہے۔

مذکورہ کرنل کا تعلق انڈین فوج کے آسام رائفلز سے ہے جن کے حکم پر ان کے دستے کے جوانوں نے سمگل کیا گيا سونا لوٹ لیا تھا۔

ایزوال کے ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ ریکس نے بی بی سی کو کرنل کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

آسام رائفلز پر میزورم سے ملحق انڈیا اور میانمار کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

ایزوال میں تعینات ایک پولیس افسر نے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ معاملہ ڈکیتی، مجرمانہ سازش، دھمکی اور بے ایمانی کا ہے۔

ڈکیتی کی یہ واقعہ گذشتہ سال 14 دسمبر کی رات کو ہوا تھا۔

پولیس کے الزامات کے مطابق آسام رائفل کی 39 ویں بٹالین میں اس وقت تعینات کمانڈنٹ کرنل جسجيت سنگھ کی ہدایت پر ان کے ماتحت اہلکار بندوق کی نوک پر تقریباً 14 کروڑ 50 لاکھ روپے کا سونا ایزوال لنگ لیئی ہائی وے پر لوٹ کر وہاں سے فرار ہوگئے۔

یہ سونا میانمار سے سمگلنگ کرکے لایا گیا تھا اور کرنل جسجیت سنگھ کو اس کے متعلق خفیہ معلومات تھیں۔

ایزوال کی پولیس کے الزامات کے مطابق اس ہائی وے ڈکیتی کی سازش میں کرنل سنگھ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

کرنل سنگھ نے جدید ہتھیاروں سے لیس اپنے جوانوں کو سمگلنگ کے تحت لائے گئے سونے کو لوٹنے کی ہدایت دی تھی۔

جس گاڑی میں یہ سونا تھا اس کے ڈرائیور لعل نون پھیلا نے 21 اپریل کو تھانے میں ایک رپورٹ درج کراتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ 39 ویں آسام رائفل کے مسلح اہلکاروں نے ہی ان کی گاڑی سے سونے کی 52 ٹکیہ لوٹ لیے تھے۔

پولیس کی جانب درج رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ڈرائیور کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔

لعل نون پھیلا نے کہا کہ اس واقعے سے متعلق رشتہ داروں اور کچھ دوستوں سے بات کرنے پر ملے لوگوں نے ہمت دلائی جس کی وجہ سے اس نے پولیس کو مطلع کیا۔

پولیس نے واقعے میں ملوث آسام رائفل کے ان آٹھ اہلکاروں کو بھی حراست میں لیا ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ گرفتار کیے گئے آٹھ اہلکاروں نے تحقیقات میں اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے اپنی بٹالین کے کمانڈنٹ کرنل سنگھ کے کہنے پر یہ جرم کیا۔

اس درمیان کرنل سنگھ نے اپنے وکیل کے ذریعہ ایزوال کی عدالت میں پیشگی ضمانت کے لیے جو درخواست دی تھی اسے مسترد کر دیا گيا تھا۔

اس کے بعد پولیس نے انہیں عدالت کے احاطے سے ہی گرفتار کر لیا۔

اطلاعات کے مطابق فوج نے کرنل جسجیت سنگھ کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔

پولیس نے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد 22 اپریل اس کی تفتیش کے لیے سی آئی ڈی کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل کی تھی۔

اس خصوصی ٹیم نے چار اور لوگوں کو گرفتار کیا ہے جس میں ایک مقامی طالب علم رہنما اور ایک تاجر شامل ہیں۔ فی الحال یہ لوگ عدالتی حراست میں ہیں۔

اسی بارے میں