کابل میں چھ طالبان قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حکام کا کہنا ہے کہ چھ طالبان قیدیوں کو اتوار کی صبح پھانسی دے دی گئی ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دہشت گرد واقعات میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کی مطالبے پر یہ قدم اُٹھایاگیا۔‘

ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کو اتوار کی صبح کابل کے مغرب میں واقع پل چرخی جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

دوسری جانب افغان طالبان کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے کابل حکومت نے یہ قدم اُٹھایا ہے اور بقول اُن کے ان قیدیوں پر قید کے دوران بھی تشدد کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث قیدیوں کے پھانسی عمل درآمد پر ٹال مٹول سے کام لینے پر افغان حکومت کو شدید تنقید کا سامناکرنا پڑا۔

افغان حکومت پر تنقید کابل میں پچھلے ماہ ہونے والے خودکش بم دھماکے اور حال ہی میں کابل میں ایک بچے کی اغوا اور بہیمانہ قتل کے بعد اور بھی بڑھ گئی تھی۔

یاد رہے کہ افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کا سلسلہ بھی کابل میں اس خودکش بم حملے کے بعد التوا کا شکار ہوا تھا۔ گذشتہ ماہ کابل میں ہونے والے ایک خودکش دھماکے میں 64 افراد ہلاک اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

افغان طالبان نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس سے کابل اور اسلام آباد کے درمیاں بھی فاصلے بڑھ گئے تھے۔

اسی بارے میں