چین کی یونیورسٹی میں شائستہ رویے پر انعام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کے طلبہ میں اس قدم کو سراہا ہے لیکن سوشل میڈیا پر اسے پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا ہے

اطلاعات کے مطابق چین کی ایک یونیورسٹی ایسے طلبہ کو کینٹین میں 50 فیصد رعایت دے رہی ہے جو سٹاف کے ساتھ شائستگی سے پیش آئیں گے۔

یہ پیشکش مشرقی شہر ووہو کی انہوئي نارمل یونیورسٹی میں کی گئی ہے اور اسے کیمپس میں طلبہ کے رویوں میں بہتری لانے کی مہم کے طور پر متعارف کرایا گيا ہے۔

یہ خبر سرکاری صوبائی نیوز سائٹ انہوئی آن لائن نے شائع کی ہے۔

ایسے ہر طلبہ کو کھانے پر 50 فیصد کی چھوٹ ملے گی جو سٹاف کے ساتھ مہذب اور شائستہ سلوک روا رکھیں گے جیسے انھیں ’ہلو‘، ’پلیز‘ اور ’شکریہ‘ جیسے الفاظ کہیں یا پھر اس کی تعریف کریں کہ ’آپ نے بہت محنت کی ہے۔‘

انھیں چھ یوان (ایک ڈالر 60 پینس) کا کھانا تین یوان (80 پینس) میں ملے گا۔

یونیورسٹی کے ایک اہلکار جینگ فینگمنگ نے کہا: ’حال میں سکول نے ایک مذاکرہ منعقد کیا جس میں طلبہ کے طور طریقے کو بہتر بنانے پر غور کیا گیا اور اس پر بھی غور کیا گیا کہ کینٹین کو کس طرح تعلیم کے لیے استعمال کیا جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سٹاف سے مہذب طور پر پیش آنے پر کھانے کی قیمت میں 50 فی صد کی چھوٹ دی جا رہی ہے

اگرچہ یہ تصور عالمی سطح پر مقبول ہو سکتا ہے لیکن یہ چین کے بہت سے سوشل میڈیا صارفین کو متاثر کرنے سے قاصر رہا۔

ایک شخص نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ چائنا ویئبو پر لکھا کہ ’مجھے یقین نہیں آتا کہ بنیادی اخلاق کے لیے پیسے کا استعمال کیا جائے گا۔‘

ایک شخص نے لکھا کہ ’برتاؤ میں شائستگی کے لیے تول مول اس کی قدر و قیمت کو کم کر دیتا ہے‘ جبکہ ایک دوسرے شخص نے لکھا ’یہ کسی المیے سے کم نہیں کہ مہذب طور طریقے فطری طور پر نہیں آتے۔‘

جبکہ بعض دوسرے اس سے متفق نظر نہیں آئے کہ اس کے لیے انعام درست طریقہ ہے۔ ایک شخص نے لکھا: ’کیا ہم اسی طرح جانوروں کی تربیت نہیں کرتے ہیں؟‘

اسی بارے میں