افغان خاتون کو ہراسان کرنے پر نوکری سے برطرف

تصویر کے کاپی رائٹ bb
Image caption مزکورہ انسپکٹر کو اپنی نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ناصر خان درانی نے ایک افغان خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات ثابت ہونے پر ایک پولیس افسر کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی کے دفتر سے منگل کو جاری ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع کوہاٹ کے گھمکول مہاجر کیمپ میں رہائش پذیر ایک افغان شہری نے آئی جی پی کو درخواست دی تھی جس میں شکایت کی گئی تھی کہ ایس ایچ اُو پولیس اسٹیشن جنگل خیل انسپکٹر غلام مرتضیٰ نے اُس کی بہن کو حبس بے جا میں رکھ کر اُسے ہراساں کیا تھا۔

بیان کے مطابق افغان شہری کی ان شکایات کی حقیقت جاننے کے لیے تین مختلف ایجنسیوں بشمول متعلقہ ضلعی پولیس آفیسر کے ذریعے فوری طورپر انکوائری کرائی گئی جس میں یہ ثابت ہوگیا کہ مذکورہ انسپکٹر نے مذکورہ افغان خاتون کو غیر قانونی طور پر ایک لڑکے کے ساتھ حبس بے جا میں رکھا اور بعد ازاں اُسے ایک قبرستان میں لے کر جا کراُنھیں ریپ کرنے کی کوشش کی گئی۔

پولیس سربراہ نے مذکورہ تینوں ایجنسیوں اور متعلقہ ضلعی پولیس آفیسر کی رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کرتے ہوئے ایس ایچ اُو پولیس اسٹیشن جنگل خیل انسپکٹر کو فوری طور پر ملازمت سے برخاست کردیا۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ تین سالوں کے دوران محکمہ پولیس میں بدعنوان افسران اور اہلکاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں ایک اندازے کے مطابق سینکڑوں اہلکاروں کو معطل یا نوکریوں سے برخاست کیا گیا ہے۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پولیس ڈیپارٹمینٹ کو بدعنوان اہلکاروں سے صاف کرنے کےلیے کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اعلیٰ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پولیس افسران کے خلاف شکایات کی صورت میں آئی جی خود تمام تحقیقاتی عمل کی نگرانی کرتے ہیں اور الزامات ثابت ہونے پر کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جاتی بلکہ سخت قانونی کاروائی کی جاتی ہے۔

اسی بارے میں