ہندوستان کا بادشاہ کدھر ہے؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

گل بدن کے بدن میں گلوں کی سی نزاکت تو نہیں لیکن کانٹوں نے ضرور ان کا دامن تھام رکھا ہے۔

وہ پاکستانی ہندو ہیں جو بہتر زندگی اور اپنے ’دھرم‘ کی تلاش میں انڈیا آئے تھے، یہاں آ کر معلوم ہوا کہ ’کوئی کسی کا نہیں۔‘ اب وہ دہلی کی اسولہ بھاٹی وائلڈ لائف سینکچوری کے قریب خیمہ زن ہیں۔

اب انھیں ’ہندوستان کے بادشاہ‘ کی تلاش ہے، یہ معلوم کرنے کے لیے کہ ’اتنے بڑے ملک میں سر چھپانے کے لیے کیا انھیں کہیں کوئی جگہ نہیں مل سکتی؟‘

وہ کہتے ہیں کہ ’مذہب کے لیے پاکستان چھوڑا، یہاں آئے کیونکہ یہاں ہندو کا دھرم ہے، ہندو کا بادشاہ ہے۔ لیکن یہاں بھی ہمارا کوئی نہیں۔‘

گل بدن نے تقریباً چھ مہینے پہلے اپنے پورے کنبے کے ساتھ انڈیا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، 64 نئے پاکستانی پاسپورٹ بنوائے گئے اور انھوں نے ہمیشہ کے لیے رحیم یار خان میں اپنا آبائی گھر بار چھوڑ دیا۔

Image caption خواتین اور بچوں کو مشکلات کا سامنا ہے

اب وہ ہر صبح کا آغاز تو بھجن کیرتن سے کرتے ہیں لیکن باقی دن اس بہتر زندگی کے انتظار میں گزر جاتا ہے جس کا خواب لے کر وہ ہندوستان آئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں راجپوت ہوں، میری دو بیویاں ہیں، اور یہ سب میرے بچے اور ان کی اولادیں ہیں۔ شدید سردی ہو یا گرمی، ہم ان پھٹی پرانی ترپالوں کے نیچے اس جنگل میں پڑے ہیں۔ روز فوجی آ کر کہتے ہیں کہ یہاں سے اپنے خیمے ہٹاؤ، اتنے بڑے ملک میں کیا کہیں ہمارے لیے سر چھپانے کی جگہ بھی نہیں؟‘

پاکستان سے بہت بڑی تعداد میں ہندو انڈیا آ کر آباد ہو رہے ہیں۔ صحیح اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں، لیکن پاکستانی ہندوؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن ہندو سنگھ سوڈھا کا اندازہ ہے کہ ان کی تعداد 50 ہزار کے قریب ہے۔

ہندو سنگھ خود سنہ 1971 میں انڈیا آئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستانی ہندوؤں کے لیے حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ انھیں طویل مدتی ویزا جاری کر دیا جاتا ہے لیکن کسی قسم کی کوئی مدد نہیں ملتی کیونکہ انھیں پناہ گزینوں کا درجہ نہیں دیا جاتا۔‘

Image caption ان کی صبح تو بھجن کیرتن سے ہوتی ہے

ان کا دعویٰ ہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے بی جے پی بہت شدت سے ان کے مسائل اٹھاتی تھی، اب اس نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔

لیکن حکمراں بی جے پی کے ترجمان سدھارتھ ناتھ سنگھ اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ پاکستانی ہندوؤں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایسا نہیں ہو سکتا، ہم نے ہمیشہ ان کی فکر کی ہے، جو ہندو ہے اس کی فکر بھارت نہیں کرے گا تو کون کرے گا؟‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہاں پناہ لینے کا مطلب یہ نہیں کہ انھیں پناہ گزینوں کا درجہ مل گیا لیکن انھیں دوبارہ بسانے کے لیے جو بھی اقدامات ضروری ہیں، وہ کیے جائیں گے، بس انھیں تھوڑا انتظار کرنا ہوگا، شہریت سے متعلق قانون پارلیمان میں منظور ہو جائے تو انھیں بہت سی سہولیات مل جائیں گی۔‘

پاکستان سے آنے والوں کا اکثر الزام ہوتا ہے کہ وہاں انھیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہے، اور انھیں برابر کا شہری نہیں سمجھا جاتا۔

Image caption خواتین اور بچے کبھی کبھی واپس جانے کا خیال ظاہر کرتے ہیں

حکومت پاکستان متعدد مرتبہ ان الزامات کو مسترد کر چکی ہے لیکن پاکستان سے آنے والوں کا سلسلسہ بدستور جاری ہے۔

ان کی شکایتیں تقریباً ایک جیسی ہیں۔ مقامی شناختی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے سکولوں میں داخلے اور بینکوں میں کھاتے کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، نہ وہ گھر خرید سکتے ہیں، نہ کوئی کاروبار کرسکتے ہیں اور نہ نوکری۔

حکومت نے یہاں بسنے کے خواہشمند ہندوؤں کے لیے ضوابط میں کئی رعایتوں کا اعلان کیا ہے، سفری دستاویزات کی شرائط آسان کر دی گئی ہیں، مزید رعایتوں کو عملی شکل دینے کی تجویز ہے لیکن ہندو سنگھ سوڈھا کا سوال ہے کہ اب بی جے پی حکومت میں ہے، ’اسے کون روک رہا ہے؟‘

ہندو سنگھ کہتے ہیں کہ یہ لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر آتے ہیں، انھیں دوبارہ بسانے کے لیے کوئی پالیسی نہیں ہے۔

Image caption انھیں انڈیا میں بنیادی سہولیات میسر نہیں

گل بدن کو بھی سب سے زیادہ ملال اسی بات کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں ہم اپنا گھر بار اور مویشی چھوڑ کر آئے ہیں، وہاں عزت سے روٹی تو ملتی تھی ۔ میرے بھائی جب مجھ سے پوچھتے ہیں تو ان سے میں کیا کہوں؟ میں تو ان سے کہتا ہوں کہ ہم خود یہاں پریشانی میں ہیں، تم لوگ فی الحال وہیں رہو۔ کیا میں واپس پاکستان جاؤں، کیا وہ گلہ نہیں کریں گے کہ کیوں واپس آئے ہو؟‘

گل بدن اور ان کے بچے جب بہت پریشان ہو جاتے ہیں تو واپس جانے کے بارے میں سوچتے ہیں، ’محنت مزدوری کے بغیر نہ یہاں کوئی روٹی دے گا نہ وہاں۔‘

اسی بارے میں