کاسا 1000 سے ’سستی اور ماحول دوست بجلی ملے گی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

جمعرات کے روز تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں توانائی کے کاسا 1000 منصوبے کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ، قرغیزستان کے وزیرِ اعظم سورن بے جینباکوف اور عالمی بینک کی نائب صدر انگر اینڈرسن اس تقریب میں شامل ہیں۔

کاسا (سینٹرل ایشیا ساؤتھ ایشیا) 1000 منصوبے کے تحت قرغزستان، تاجکستان، افغانستان اور پاکستان کو توانائی کی گرڈ سے منسلک کر دیا جائے گا۔

پروجیکٹ کے تحت قرغزستان اور تاجکستان پاکستان اور افغانستان کو 1300 میگاواٹ بجلی فراہم کریں گے۔

اس موقعے پر وزیرِ اعظم نواز شریف نے کاسا 1000 کو خطے کے لیے نہایت اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجارت و توانائی کے اس منصوبے سے جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے ملک تجارتی اور توانائی کی راہداریوں سے منسلک ہو جائیں گے، جس کے سماجی اور اقتصادی ثمرات سامنے آئیں گے۔

Image caption پاکستان وزیرِ اعظم نواز شریف تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ہاتھ ملا رہے ہیں

عالمی بینک کی نائب صدر انگر اینڈرسن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک اس منصوبے کے تعاون فراہم کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے مہنگی بجلی پر انحصار کم ہو گا اور پاکستان اور افغانستان کو سستی اور ماحول دوست توانائی حاصل ہو گی۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے کے تحت پاکستان اپنے توانائی کے بحران پر قابو پا لے گا۔

اس منصوبے کے تحت پاکستان کو گرمیوں کے موسم (یکم مئی تا 30 ستمبر) میں 1300 میگاواٹ بجلی مہیا کی جائے گی۔ یہ منصوبہ 2018 میں مکمل ہو گا اور توقع ہے کہ اس سے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

پروجیکٹ کے تحت تاجکستان سے براستہ افغانستان پاکستان تک 750 کلومیٹر لمبی ہائی وولٹیج لائن بچھائی جائے گی، اور اس کے ڈی سی کنورٹر سٹیشن سنگتودہ، کابل اور نوشہرہ میں قائم کیے جائیں گے، جب کہ جمہوریہ قرغز اور تاجکستان کے درمیان ایک اے سی لنک قائم کیا جائے گا۔

کاسا 1000 کے تحت پاکستان کا حصہ 1000 میگاواٹ بنتا ہے، جب کہ افغانستان کا حصہ 300 میگاواٹ ہے، البتہ افغانستان کو مستقبل قریب میں اس کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے یہ بھی پاکستان کے لیے دستیاب ہو گا۔

اسی بارے میں