لیبیا میں پھنسی 29 انڈین نرسوں کی وطن واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ A S Satheesh
Image caption انڈین نرسوں کی مصیبت اس وقت شروع ہوئی جب ایک راکٹ زاويہ میڈیکل سینٹر اور ٹیچنگ ہسپتال پر آکر گرا

لیبیا میں پھنسی 29 انڈین نرسیں اپنے ملک واپس پہنچ گئی ہیں، ان نرسوں کی واپسی میں لیبیا کے ایک شہری عبدالجبار نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

26 مارچ سے ملک واپسی کی آس لگائے یہ نرسیں جمعرات کو انڈیا پہنچی ہیں۔

لیبیا کے شہر زاویہ میں مارچ میں راکٹ حملے میں اپنے ایک ساتھی اور ان کی 18 ماہ کے بیٹے کی موت کے انھوں نے ایک ہسپتال کے کمپاؤنڈ پناہ لی تھی۔

لیبین شہری عبدالجبار نے جنگ زدہ علاقوں سے دور نرسوں اور ان کے خاندان والوں کے لئے نہ صرف رہنے کا اہتمام بلکہ زاویہ سے طرابلس ہوائی اڈے تک جانے کا انتظام بھی کیا۔

انڈیا پہنچے پر نرسوں نے بی بی سی کو بتایا کہ لیبیا میں بھارتی سفارت خانے کے عملے کا رویہ سرد تھا۔

نرسوں کے یہ بیان درحقیقت نریندر مودی کے اس بیان کے برعکس ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ انڈیا کی حکومت نے ’انھیں بچا لیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ A S Satheesh
Image caption انڈیا پہنچے پر نرسوں نے بتایا کہ لیبیا میں بھارتی سفارت خانے کے عملے کا رویہ سرد تھا۔

ایک نرس پشپا نے بی بی سی کو بتایا، ’وہاں ہمیں کوئی بچانے نہیں آیا۔ اگر آج ہم ملک واپس آئے ہیں تو یہ ہماری اپنی کوششوں اور ہمارے ساتھیوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ عبدالجبار ہمیں ہسپتال کے احاطے سے ایک گھر میں لے گئے جہاں ہم محفوظ رہے۔‘

واپس آنے والی ایک اور نرس مریم تمل ناڈو کے كاچيپرم کی رہنے والی ہیں۔ وہ اور ان کے شوہر بھی لیبیا میں پھنسے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ 11 چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔ اب وہ تمام استبول اور دبئی کے راستے طرابلس سے کوچی لوٹ آئے ہیں۔

انڈین نرسوں کی مصیبت اس وقت شروع ہوئی جب ایک راکٹ زاويہ میڈیکل سینٹر اور ٹیچنگ ہسپتال پر آکر گرا۔

کیرالہ کی رہنے والی سیمی جوس بتاتی ہیں: ’جس دن ہمارے اپارٹمنٹ پر راکٹ آکر گرا دیا، ہم نے خوفناک بمباری کے درمیان وہ جگہ فوری طور پر چھوڑ دی۔ جبار ہمیں سمندر کے قریب کسی جگہ لے گئے۔ تب تک لیبیا کی وزارت صحت کی جانب سے کوئی مدد نہیں آئی تھی۔ ہمیں انڈین حکومت کی جانب سے مدد آنے کی امید تھی۔ انڈین سفارت خانے نے کہا کہ ہم کس طرح آپ کی مدد کریں، آپ ٹکٹ خریدیں اور گھر واپس جائیں۔‘

سیمی جوس کہتی ہیں: ’تقریباً سات مہینوں سے ہم اپنی تنخواہ نکلوا نہیں پائے تھے کیونکہ بینک کے پاس دینے کے لیے کرنسی نہیں تھی۔ اس وقت وہ صرف 100 دینار دینے کو تیار تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ A S Satheesh

مریم نے بتایا: ’یہ صرف ہمارے لیبیا کے ساتھیوں کی وجہ سے ممکن ہو سکا کہ ہسپتال ہمارا معاہدہ ختم کرنے پر راضی ہوا۔ یہ 31 مارچ کو ختم ہو رہا تھا۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ٹریول ایجنٹ کو دینے کے لیے ہمارے چیک بنوائے ورنہ ٹکٹ بھی ملنا مشکل تھا۔ ٹریول ایجنٹ ان چیکوں کو تب کیش کروائے گا جب بینک میں کرنسی ہو گی۔‘

خیال رہے کہ ان نرسوں کے وطن واپس لوٹنے کے بارے میں پہلا اشارہ اس وقت ملا تھا جب بدھ کی شام وزیر اعظم نریندر مودی کیرالہ میں ترپپنترا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔

نریندر مودی نے کہا تھا: ’وہ لوگ کئی دنوں سے لاپتہ تھے۔ ہمیں ان کی فکر ستا رہی تھی کہ پتہ نہیں ان کے ساتھ کیا ہوا۔ لیکن ہماری حکومت نے انھیں بچا لیا ہے۔‘