مالیگاؤں دھماکے: پرگیا سنگھ ٹھاکر کے خلاف الزامات واپس

Image caption سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر پر الزام تھا کہ دھماکوں میں جو موٹر سائیکل استعمال کی گئی تھی وہ ان ہی کی تھی لیکن این آئی کا اب کہنا ہے کہ سادھوی اور چھ دیگر افراد کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں

انڈیا میں قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے سنہ 2008 کے مالیگاؤں بم دھماکوں سے متعلق مقدے میں سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کے خلاف الزامات واپس لے لیے ہیں۔

این آئی اے نے اپنی تازہ فرد جرم میں سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کا نام شامل نہیں کیا اس لیے اب ان کی رہائی کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔

* کرنل پروہت کی ڈور کس کے ہاتھ میں تھی؟

* مالیگاؤں کیس:بیان کی کاپی حاصل کرنا مشکل

مالیگاؤں میں ستمبر سنہ 2008 میں بم دھماکے کیے گئے تھے جن میں چھ افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

پہلے مقامی مسلمانوں اور لشکر طیبہ پر شک ظاہر کیا گیا تھا لیکن بعد میں مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی دستے نے ابھینو بھارت نامی ایک ہندو شدت پسند تنظیم کو بے نقاب کیا تھا اور اس مقدمے میں اس کے کئی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر ان میں سے ایک ہیں۔ دوسرے اہم ملزم کرنل پروہت ہیں جو اس وقت حاضر سروس افسر تھے۔

ان پر الزام تھا کہ دھماکوں میں جو موٹر سائیکل استعمال کی گئی تھی وہ انہی کی تھی۔ لیکن این آئی کا اب کہنا ہے کہ سادھوی اور چھ دیگر افراد کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں، لہٰذا ان کے نام نئی فرد جرم میں شامل نہیں کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مالیگاؤں میں ستمبر سنہ 2008 میں بم دھماکے کیے گئے تھے جن میں چھ افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے

سینئیر وکیل اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے لیڈر مجید میمن نے کہا: ’انصاف اور سچائی کا گلا گھوٹنے کی کھلے عام کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت بدل جانے سے سچائی نہیں بدل جاتی۔‘

یہ مقدمہ کانگریس کے دورِ اقتدار میں قائم کیا گیا تھا۔ اب این آئی اے کا کہنا ہے کہ اے ٹی ایس نے فرضی شواہد کی بنیاد پر یہ مقدمہ قائم کیا تھا۔

کانگریس کے سینیئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے کہا کہ ایسے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو واضح طور پر شدت پسندی میں ملوث تھے۔

نائب وزیر داخلہ کرن ریجیجو نے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ این آئی اے حکومت کے دباؤ میں کام کر رہی ہے۔

اس مقدمے کے دوسرے ملزم کرنل پروہت کے خلاف بھی مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (مکوکا) ہٹانے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ انتہائی سخت قانون ہے جس میں گرفتار کیے جانے والوں کو آسانی سے ضمانت نہیں ملتی۔ مکوکا ہٹ جانے سے کرنل پروہت کے خلاف بھی مقدمہ کی نوعیت کم سنگین ہو جائےگی۔

مالیگاؤں میں سنہ 2006 میں بھی دھماکے ہوئے تھے اور اس کیس میں گرفتار کیے جانے والے مسلمانوں کو حال ہی میں تمام الزامات سے بری کیا گیا ہے۔

مالیگاؤں کیس میں سرکاری وکیل روہنی سالیان نے گذشتہ برس یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا کہ ان پر کیس کمزور کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں