انڈیا: بہار میں ہندی اخبار کے بیورو چیف کا قتل

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption پولیس قاتلوں کی تلاش میں مصروف ہے

انڈین ریاست بہار کے شہر سیوان میں ہندی اخبار ’ہندوستان‘ کے بیورو چیف راج دیو رنجن کو جمعے کی شام گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔

بہار کے سابق وزیر اعلیٰ جیتن مانجھی کی پارٹی ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) نے موجودہ وزیر اعلی نتیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

بہار اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر پریم کمار نے ایک بیان جاری کر کہا: ’گڈ گورننس کی حکومت میں تو جمہوریت کا چوتھا ستون بھی محفوظ نہیں ہے۔ پورے بہار میں مجرموں کا بول بالا ہے۔‘

پریم کمار کا کہنا تھا: ’بہار میں دوبارہ جنگل راج لوٹ آیا ہے۔‘

سیوان کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سوربھ کمار ساہ نے بی بی سی کے نامہ نگار دلنواز پاشا کو بتایا: ’ایک ریلوے پل کے قریب صحافی کو دو گولیاں ماری گئی ہیں۔ ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔‘

پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا: ’حملہ آور موٹر سائیکل پر آئے تھے۔ ان کی تعداد اب واضح نہیں ہے لیکن ہمارے خیال میں حملہ آور دو یا تین ہو سکتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے صحافی راجددیو رنجن کے لواحقین ابھی بیان دینے کی حالت میں نہیں ہیں۔ اہل خانہ کے بیان کے بعد ہی کارروائی کی جائے گی، فی الحال پولیس قاتلوں کی تلاش میں مصروف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ریاست کے گیا ضلع میں تقریباً چھ دن پہلے گاڑی اوور ٹیک کرنے پر ایک طالب علم کی گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

اس قتل کا الزام حکمراں جنتا دل (یو) کی کونسلر منورما دیوی کے بیٹے راکی یادو پر ہے، جو اس وقت حراست میں ہیں۔

بی جے پی کے ترجمان اور بہار کے رہنما شاہنواز حسین نے سیوان کے واقعے پر ٹویٹ کیا کہ ’راج دیو رنجن بے خوف ہو کر لکھنے والے صحافی تھے۔ بہت دکھ ہوا سن کر کہ ان کا قتل کر دیا گیا۔‘

شاہنواز حسین نے لکھا کہ ’یہ جنگل راج نہیں، ماہا جنگل راج ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا ہے: ’سیوان کے ہندوستان اخبار کے بیورو چیف راج دیو رنجن قتل۔ نتیش بنارس گھوم رہے ہیں اور بہار میں جمہوریت کا چوتھا ستون خطرے میں ہے۔‘

اسی بارے میں