انڈين بحریہ کے افسران پر ’بیویوں کے تبادلے‘ کے الزامات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ خصوصی ٹیم کا سربراہ کم سے کم ڈی آئی جی رینک کا افسر ہونا چاہیے

انڈیا کی سپریم کورٹ نے ریاست کیرالہ کی پولیس کو ان الزامات کی تفتیش کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے کہ بحریہ کے کچھ افسر ایک دوسرے کی بیویوں کے ساتھ سوتے ہیں۔

اسے ’وائف سواپنگ‘ یا بیویوں کا تبادلہ کہا جاتا ہے۔

٭ بھارتی فوج کا کرنل سونا لوٹنے کے الزام میں گرفتار

یہ الزام بحریہ کے ایک افسرکی بیوی نے 2013 میں لگایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر نے انھیں اپنے ساتھی افسران کے ساتھ سونے پر مجبور کیا تھا اور انکار کرنے پر انھیں ایذائیں پہنچائی گئی تھیں۔ وہ اب اپنے شوہر سے طلاق لے چکی ہیں۔

بحریہ ان الزامات سے انکار کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کی داخلی تفتیش میں یہ الزمات بےبنیاد ثابت ہوئے ہیں۔

عرضی گزار نے تحقیقات کے نتیجے کے خلاف پہلے کیرالہ کی ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے تین مہینے کے اندر تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’80 کے عشرے میں اس وقت فوج کے سربراہ جنرل کے سندرجی نے کئی ایسے جرنیلوں کو ریٹائر کر دیا تھا جن پر دوسرے افسران کی بیویوں سے تعلقات قائم کرنے کا الزام تھا‘

دفاعی تجزیہ نگار سشانت سنگھ کے مطابق یہ غیرممعولی قدم ہے، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’یہ محض الزام ہے، اس لیے ابھی یہ مان کر نہیں چلنا چاہیے کہ ایسا ہوا ہی تھا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ عرضی گزار اور ان کے شوہر کے درمیان کس طرح کے تعلقات تھے، ان کا رشتہ کیوں ٹوٹا اور وہ یہ الزامات اب کیوں لگا رہی ہیں۔‘

ایک سابق فوجی افسر کے مطابق اس طرح کے واقعات کا ذکر ’دبے الفاظ‘ میں تو ضرور سننے کو ملتا تھا لیکن کھل کر یہ الزام پہلی مرتبہ لگایا گیا ہے۔

سشانت سنگھ کہتے ہیں کہ ’وائف سواپنگ کے بارے میں تو میں نہیں کہہ سکتا لیکن فوج میں غیر ازدواجی تعلقات کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ 80 کے عشرے میں اس وقت فوج کے سربراہ جنرل کے سندرجی نے کئی ایسے جرنیلوں کو ریٹائر کر دیا تھا جن پر دوسرے افسران کی بیویوں سے تعلقات قائم کرنے کا الزام تھا۔‘

عرضی گزار نےاس سے پہلے سپریم کورٹ سے یہ درخواست کی تھی کہ کیرالہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ان کے مقدمے کو دہلی منتقل کر دیا جائے کیونکہ کیرالہ میں ان کی جان کو خطرہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ INDIAN NAVY
Image caption بحریہ ان الزامات سے انکار کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کی داخلی تفتیش میں یہ الزمات بےبنیاد ثابت ہوئے ہیں

عدالت نے انھیں اس مقدمے میں وفاقی حکومت کو بھی فریق بنانے کی اجازت دیدی تھی اور حکومت، بحریہ کے پانچ افسران، ان کے شوہر اور بحریہ کے جنوبی کمان کے سربراہ کو نوٹس جاری کیے تھے۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ خصوصی ٹیم کا سربراہ کم سے کم ڈی آئی جی رینک کا افسر ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں