کشمیر: ہندواڑہ کی متاثرہ لڑکی کی’رہائی‘ کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔اس کے خلاف ہونے والے پر تشدد مظاہروں کے دوران فوج کی فائرنگ میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے

انڈیا کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر کی ہائی کورٹ نے پولیس کو ہندواڑہ میں مبینہ چھیڑ چھاڑ کے واقعے میں متاثرہ لڑکی کی نگرانی ختم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

لڑکی کے رشتہ داروں نے دو دن پہلے عدالت سے کہا تھا کہ انھیں کسی بھی طرح کی پولیس کی سکیورٹی کی ضرورت نہیں ہے جس پر عدالت نے اہل خانہ سے حلف نامہ طلب کیا تھا۔

متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کے وکیل پرویز امروز نے بتایا: ‎’عدالت نے ہدایت کی ہے کہ لڑکی کو پولیس کی غیر قانونی حراست سے رہا کیا جائے۔ لڑکی کو گذشتہ 27 دنوں سے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا تھا۔‘

سرینگر سے تقریبا 74 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبے ہندواڑہ کے ایس پی غلام جیلانی بھٹ نے بتایا کہ عدالت کے حکم کے بعد لڑکی کو مہیا کی جا رہی سکیورٹی واپس لے لی جائے گی۔

اس لڑکی کو 12 اپریل کو اس وقت پولیس کی حراست میں لیا گیا تھا جب قصبے میں کچھ لوگوں نے ایک فوجی پر اس سے چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Courtesy indian Army
Image caption جب سے یہ واقعہ سامنے آیا ہے اس وقت سے متاثرہ لڑکی پولیس کی نگرانی میں ہے اور پولیس کی حراست کے دوران ہی ریکارڈ کیا گيا اس ایک ویڈیو سامنے آیا تھا

یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی تھی ہزاروں لوگوں نے بھارتی سکیورٹی فورسز کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

اس واقعے کے تعلق سے فوج کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے پانچ افراد ہلاک بھی ہو گئے تھے۔

جب سے یہ واقعہ سامنے آیا ہے اس وقت سے متاثرہ لڑکی پولیس کی نگرانی میں ہے اور پولیس کی حراست کے دوران ہی ریکارڈ کیا گيا اس کا ایک ویڈیو سامنے آیا تھا۔

ابھی تک اس پورے معاملے میں متاثرہ لڑکی کی جانب سے دو بیان سامنے آئے ہیں۔

اسی بارے میں