بنگلہ دیش میں بدھ مت کے راہب ہلاک

Image caption پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں چار افراد شامل تھے

بنگلہ دیش میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جنوب مشرقی ضلعے بندربن میں بدھ مت کے ایک راہب کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

راہب کی عمر 75 سال بتائي جاتی ہے۔ پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ان کی لاش بدھ مت کے مندر میں ملی ہے۔

مذہبی اقلیتوں، سیکولر کارکنوں اور درس و تدریس سے منسلک افراد کی حالیہ ہلاکتوں میں یہ تازہ ترین واقع ہے۔

٭ بنگلہ دیش میں شدت پسندی عروج پر

٭ بنگلہ دیش میں ہندؤ درزی کا قتل

٭ بنگلہ دیش: ہم جنس پرستوں کے رسالے کے مدیر قتل

بنگلہ دیش میں گذشتہ تین سالوں کے دوران مشتبہ اسلام پسندوں کے ہاتھوں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ ماہ ایک پروفیسر کا قتل کر دیا گيا تھا

پولیس کا کہنا ہے کہ راہب مونگ شوئے یو چک پر بیشاری مندر میں کم از کم چار آدمیوں نے حملہ کیا۔ یہ جگہ دارالحکومت ڈھاکہ سے 350 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

ان کے قتل سے قبل اپریل میں ہم جنس پرستوں کے لیے سرگرم دو اہم کارکنوں کا قتل ہو چکا ہے جن میں ایک قانون کا طالب علم اور ایک پروفیسر شامل ہے۔

فروری میں ایک ہندو پجاری کا شمالی بنگلہ دیش میں سر قلم کر دیا گیا تھا۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہلاانے والی شدت پسند اور القاعدہ سے منسلک بنگلہ دیشی گروپ نے چند ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

دولت اسلامیہ نے کہا ہے اس نے شیعہ مساجد اور مزاروں پر بھی حملہ کیا ہے اور گذشتہ سال دو غیرملکیوں کو ہلاک کیا ہے جن میں ایک اطلالوی امدادی کارکن اور ایک جاپانی ماہر کاشتکاری شامل ہیں۔

رواں مہینے کے اوائل میں سنگاپور نے آٹھ بنگلہ دیشیوں کو ملک بدر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ افراد دولت اسلامیہ (آئی ایس بی) تنظیم کے رکن ہیں اور وہ اپنے ملک میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

بنگلہ دیش حکومت اس بات سے انکار کرتی ہے کہ ان کے ملک میں دولت اسلامیہ موجود ہے۔

اسی بارے میں