مسلمانوں پر یوگا کی پابندی کی خبر پر صحافی گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوام متحدہ نے ہر برس 21 جون کو یوگا کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا ہے

بھارت میں ایک صحافی کو ایک رپورٹ شائع کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حکومتی پالیسی کے تحت یوگا سکھانے کے لیے مسلمان اساتذہ پر پابندی عائد ہے۔

پوشپ شرما کی مارچ میں مسلمان برادری کی نمائندگی کرنے والے اخبار ملی گزٹ میں یہ رپورٹ شائع ہوئی تھی۔

*دنیا کا پہلا یوگا ڈے، دہلی میں ہزاروں کا اجتماع

رپورٹ میں ایک مبینہ سرکاری دستاویز کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ گذشتہ برس یوگا کے عالمی دن پر مسلمانوں پر بیرون ملک یوگا سکھانے کے لیے جانے پر پابندی عائد تھی۔

پوشپ شرما پر دستاویزات کی جعلی سازی کا الزام ہے جس کی وہ سختی سے تردید کرتے ہیں۔

شرما کے مطابق اس نے یوگا اور دیسی ادویات کو فروغ کے لیے قائم وزارت کی جانب سے سرکاری موقف سامنے آنے کے بعد یہ خبر دی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ سے متعدد بار پوچھنے پر اس نے جواب دیا کہ تین ہزار 841 مسلمانوں نے یوگا ٹیچر کے لیے درخواست دی تھی اور اکتوبر 2015 تک ان میں سے کسی کو بھی یہ ذمہ داری نہیں دی گئی۔

ان کی رپورٹ کے ساتھ ایک خط شائع ہوا ہے جو بظاہر اس وزارت کا ہے۔ اس خط کے مطابق 711 مسلمانوں نے جون میں یوگا کے پہلے عالمی دن کے موقعے پر یوگا سکھانے کے لیے بیرون ملک جانے کی درخواست دی تھی اور ’حکومتی پالیسی‘ کے تحت ان میں سے کسی کو منتخب نہیں کیا گیا۔

حکومتی جواب سرکاری لیٹر ہیڈ پر نہیں دیا گیا اور اس میں املا کی بھی غلطی ہیں جس میں لفظ’یوگا‘ بھی شامل ہے۔

ملی گزٹ کے ایڈیٹر ظفر الاسلام خان نے صحافی پوشپ شرما کی سنیچر کو گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرما پر عائد الزامات آزادی رائے کو دبانے کی واضح کوشش ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارتی وزیراعظم یوگا کے بڑے حامی ہیں

بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی نے دہلی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ پوشپ شرما پر’ جعل سازی اور مذہب یا نسل کی بنیاد پر مختلگ گروہوں میں نفرت کے فروغ‘ کے الزامات عائد کیے ہیں۔

خیال رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی یوگا کے بڑے حامی ہیں اور ان کے بقول وہ اس قدیم بھارتی فن کی روزانہ مشق کرتے ہیں۔

ان کی کوششوں سے اقوام متحدہ نے ہر برس 21 جون کو یوگا کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا تھا اور گذشتہ برس پہلی بار یہ دن منایا گیا۔

بھارت میں یوگا کے فروغ پر تنازع بھی پیدا ہوا ہے جس میں بعض مسلم تنظیموں نے کہا تھا کہ یوگا کا تعلق بطور خاص ہندو مذہب سے ہے اور یہ اسلام کے منافی ہے۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کا اس قدیم ہندوستانی فن کو فروغ دینے کا ایجنڈا ہے۔ تاہم حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوگا میں شامل ہونا سب کے لیے لازمی نہیں ہے اور یہ بات کہ مسلمان یوگا کے خلاف ہیں مبالغہ آرائی ہے۔

اسی بارے میں