’شہریوں کو حج سےمحروم کرنے کی ذمہ داری ایران کی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایران نے حاجیوں کے انتظامات کے معاہدے میں ناکامی کی تمام ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کی ہے

سعودی عرب نے کہا ہے کہ ایران کے’ناقابلِ قبول مطالبات‘ کی وجہ سے دونوں ملکوں کے مابین حج انتظامات کے حوالے سے معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر عمرہ و جج ڈاکٹر محمد طاہر بینتن نے کہا ہے کہ تہران واحد ملک ہے جس نے سعودی عرب سے اپنے شہریوں کے حج کی آمد سے حوالے سے معاہدہ کرنے سے انکار کیا۔

سرکاری ٹیلی ویژن اخباریہ پر نشر ہونے والے سعودی عرب کے وزیر حج کے بیان کے مطابق ایران کا مطالبہ تھا کہ ایرانی شہریوں کو ایران میں ہی ویزہ جاری کیا جائے اور ان کےلیے ٹرانسپورٹ کے علیحدہ انتظامات کیےجائے۔

ایران کے وزیر ثقافت اور مذہبی امور علی جنتی نے جمعرات کو کہا تھا کہ سعودی عرب سے حج کے دوران ایرانی شہریوں کے انتظامات کے حوالے سے معاہدے پر مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور رواں برس ایرانی شہری حج کا فریضہ سرانجام نہیں دے سکیں۔

ایرانی وزیر نے حاجیوں کے انتطامات کے معاہدے میں ناکامی کی تمام ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ برس حج کے دوران بھگدڑ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے حاجیوں میں اکثریت ایرانیوں کی تھی

واضح رہے کہ تہران میں سعودی عرب کا سفارتی عملہ موجود نہیں ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ایران شہری حج کے لیے کسی تیسرے ملک سے ویزا کی درخواست دیں۔

جنوری میں سعودی عرب میں معروف شیعہ عالم شیخ نمر النمر کو پھانسی دے جانے کے بعد ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔

تاہم ایران چاہتا ہے کہ سعودی عرب تہران میں قائم سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کے ذریعے ویزے جاری کرے۔ تہران کے ساتھ ریاض کے تعلقات کے خاتمے کے بعد سوئس سفارتخانہ سعودی معاملات کی نگرانی کر رہا ہے۔

علی جنتی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ایران کی جانب سے ایرانی حاجیوں کو سکیورٹی اور ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کی تجویز بھی قبول نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ایران اور سعودی عرب خطے میں حریف ہیں اور دونوں کے درمیان شام اور یمن کے بحران پر تعلقات پہلے سے کشیدہ تھے اور ان میں مزید تلخی اس وقت آئی جب گذشتہ برس حج کے موقعے پر بھگدڑ مچنے سے سینکڑوں حاجی ہلاک ہو گئے اور ان میں اکثریت ایرانی شہریوں کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایران چاہتا ہے کہ سعودی عرب تہران میں قائم سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کے ذریعے ویزے جاری کرے

اس واقعے پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ واقعے کی ذمہ داری قبول کرے اور معافی مانگے۔

اسی بارے میں