وہ ہندو جنھیں مسلم لیگ پسند ہے

Image caption 10 مئی1948 کو ایک نئی پارٹی آئی یو ایم ایل کا قیام عمل میں آيا

’پہلے میں بھی سوچتا تھا کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی پارٹی ہے پھر میں نے تھوڑی چھان بین کی تو دیکھا کہ کیرالہ کے شمالی علاقوں میں یہ پارٹی دلت، پسماندہ ذاتوں اور قبائلیوں تک کو ساتھ لے کر چلتی ہے اور یہ بالکل ہی سیکولر ہے۔‘

ایک ہندو، ڈی رگھوناتھ پناویلي کے ذہن میں انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کے بارے میں بہت سے سوالات تھے۔

لیکن آٹھ سال قبل وہ اس پارٹی سے منسلک ہو گئے اور اب کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نے انھیں ’مایوس‘ نہیں کیا بلکہ کسی اور پارٹی میں شاید انھیں اتنی عزت نہیں ملتی۔

مسلم لیگ کا نام لیتے ہی ذہن میں آزادی سے پہلے کی وہ پارٹی آ جاتی ہے جس نے پاکستان کا مطالبہ کیا تھا۔

لیکن تقسیم کے بعد وہ پارٹی پاکستان چلی گئی اور بھارت کے معروف شہر مدراس (اب اس کا نام چینئی ہے) میں 10 مئی سنہ 1948 کو ایک نئی پارٹی آئی یو ایم ایل کا قیام عمل میں آيا۔

Image caption ابراہیم کنجو آئي یو ایم ایل کے رکن اسمبلی ہیں

آئی یو ایم ایل کیرالہ میں ایک اہم پارٹی بن کر ابھری ہے۔ موجودہ اسمبلی میں اس کے 20 ارکان ہیں۔

ممبر اسمبلی وي كے ابراہیم كنجو ریاستی حکومت میں عوامی فلاح و بہبود کے امور کے وزیر بھی ہیں۔

اپنے روڈ شو کے دوران بی بی سی سے بات چیت میں وہ کہتے ہیں: ’آئی یو ایم ایل ایک بہت ہی مختلف قسم کی پارٹی ہے، ایک دم سیکولر اور جمہوری، ہم کانگریس کے ساتھ اتحاد میں ہیں اور ہماری پارٹی کی 40 سال کی تاریخ ہے۔‘

لیکن مختلف صرف انڈین یونین مسلم لیگ نہیں بلکہ کیرالہ کا سماج اور وہاں کی سیاست بھی ہے۔

روڈ شو جہاں سے گزرتا ہے وہیں سبنا اور اس سہیلیاں کھڑی ہیں۔ اور میں ان سے لپک کے پوچھتی ہوں ’آپ کا مذہب کیا ہے اور آپ کس پارٹی کو ووٹ ڈالتی ہیں؟‘

Image caption سبنا کے مطابق کیرالہ میں مذہب پر نہیں بلکہ کام پر ووٹ دینے کا رواج ہے

سبنا قدرے ناراض ہو کر کہتی ہیں: ’میں مسلمان ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں مسلم لیگ کو ہی ووٹ دوں گي۔ ویسے بھی مسلم لیگ کثیر مذہبی پارٹی ہے، اور کیرالہ میں ہم مذہب پر نہیں انسان کے کام پر ووٹ دیتے ہیں، میری پسند کی پارٹی کانگریس ہے۔‘

پاس کے ایک اور محلے میں کچھ ہندو اور مسلمان مل کر سیاست کے اس نئے سبق کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

دیڈڈي دیوی کی مالا (گلے کے ہار) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شاہجہاں کہتے ہیں، ’آئی یو ایم ایل کیرالہ میں ایک مالا کی طرح ہے جس میں ہندو، مسلم، عیسائی سب ساتھ آتے ہیں۔‘

Image caption کیرالہ کی سیاست میں ایک عرصے تک بائیں بازو کی جماعتوں کا بول بالا رہا ہے

دیڈڈي دیوی کہتی ہیں کہ ملک کی سیاست اور کیرالہ کے ماحول میں بہت فرق ہے: ’ملک کی حکومت تو بدل گئی لیکن کیرالہ میں بی جے پی کی بات کوئی پسند نہیں کرے گا، یہاں سب دوستانہ تعلقات کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں۔‘

ان تمام دعووں سے علیحدہ نرمل آئپ کے لیے ایک ٹیسٹ سب سے فیصلہ کن تھا۔

نرمل کالج کے دنوں میں بائیں بازو کی طلبہ یونین میں سرگرم تھے لیکن وقت کے ساتھ ان کا اعتماد وہاں سے اٹھتا گيا اور اب وہ آئی یو ایم ایل سے منسلک ہیں۔

Image caption نرمل پہلے بائیں بازو کے نظریات کے حامل تھے

ان کے مطابق: ’جب بابری مسجد کو منہدم کیا گیا، یہاں بھی مسلمانوں میں بہت ناراضگی تھی، لیکن آئی یو ایم ایل نے طے کیا کہ وہ فساد نہیں بھڑکنے دیں گے اور ان کے کارکنوں نے تمام مندروں کی حفاظت کی۔‘

نرمل جو مذہب سے عیسائی ہیں، بتاتے ہیں کہ اس کے بعد جو انتخابات ہوئے اس میں آئی یو ایم ایل کو اس حکمت عملی کی وجہ سے بہت نشستیں گنوانی پڑیں پر پارٹی کے نظریات آج تک نہیں بدلے۔

اسی بارے میں