حکمت یار کے ساتھ ’امن معاہدہ‘، صدر کے دستخط ہونا باقی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغانستان کا کہنا ہے کہ حکومت نے افغان جہاد کے کمانڈر گلبدین حکمت یار کے گروپ حزب اسلامی کے ساتھ امن معاہدے کے مسودے پر دستخط ہو گئے ہیں اور یہ ایک بڑا قدم ہے۔

حزب اسلامی کے گلبدین حکمت یار افغان جہاد کے مشہور کمانڈر ہیں اور حزب اسلامی کا شمار بڑے جنگجو گروپوں میں ہوتا ہے۔

٭ حکمت یار افغان حکومت سے معاہدے کے لیے بے چین

افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے نائب محمد خان نے کہا کہ امید ہے کہ اس معاہدے سے حزب اسلامی کے ساتھ امن معاہدہ ہو جائے گا۔

حزب اسلامی کا تعلق القاعدہ سے رہا ہے اور اس گروپ پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کئی الزامات ہیں۔

گلبدین حکمت یار کو امریکہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔

حزب اسلامی نے حالیہ سالوں میں طالبان کی جانب سے جاری کااروائیوں میں بہت کم کردار ادا کیا ہے۔ اسی لیے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب اسلامی کے ساتھ امن معاہدے سے ملک میں امن کی صورتحال میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

محمد خان نے اس مسودے پر دستخط کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔

کابل میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے محمد خان نے کہا ’ہم اس معاہدے سے خوش ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔‘

صدر اشرف غنی کے نائب ترجمان سید ظفر ہاشمی نے کہا کہ یہ معاہدہ ابھی تصدیق کے مراحل میں ہے اور ابھی تک صدر اشرف غنی نے اس پر دستخط نہیں کیے۔

اس مسودے کے تحت افغان حکومت حزب اسلامی کے جنگجوؤں کو عام معافی دے گی اور اقوام متحدہ سے اس گروپ کے نام کو بلیک لسٹ سے ہٹانے کی درخواست کرے گی۔

معاہدے کے تحت یہ گروپ حکومت میں شامل نہیں ہو گا لیکن اس کو ایک باضابطہ سیاسی جماعت کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے گلبدین حکمت یار کے ساتھ معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ گلبدین حکمت یار 1990 کی دہائی میں مختصر عرصے کے لیے افغانستان کے وزیر اعظم بھی رہے ہیں۔

اسی بارے میں