متنازع نقشہ قانون سے متعلق پاکستانی اعتراض مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور پاکستان کا معاملے میں کوئی حق حاصل نہیں ہے: وزارت خارجہ ترجمان

انڈیا نے ملک کے نقشے کے حوالے سے مجوزہ قانون سازی پر پاکستانی اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے۔

پاکستان نے انڈیا کی جانب سے کشمیر کو غلط انداز میں دکھانے پر اقوام متحدہ سے رجوع کیا ہے۔

اس مجوزہ قانون کے تحت کشمیر سمیت اگر کسی متنازع علاقے کو انڈیا کی سرزمین سے الگ دکھایا گیا تو ایسے کرنے والے فرد یا ادارے کو قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

انڈیا کے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق سوشل میڈیا پر جموں کشمیر کے کچھ حصوں کو پاکستان میں اور اروناچل پردیش کے کچھ حصوں کو چین میں دکھانے والے نقشوں کو دیکھتے ہوئے حکومت نے یہ قانون متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان نے انڈیا کی جانب سے مجوزہ ’جیوسپیشیل ریگولیشن بل‘ کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں اس مجوزہ قانون پر اپنے اعتراضات کی وضاحت کی ہے۔

پاکستان اور انڈیا دونوں پورے کشمیر کو اپنا حصہ گردانتے ہیں اور اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں اسے نقشوں میں متنازع علاقے کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔

انڈیا کے مجوزہ قانون میں تجویز کیا گیا ہے کہ کوئی نقشہ یا سیٹیلائٹ امیج اس وقت تک صحیح تصور نہیں کی جائےگی جب تک انڈیا کی حکومت اس کی تصدیق نہ کرے۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کو غلط انداز میں دکھانے پر احتجاج کیا تھا۔

انڈیا کے وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے کہا ہے کہ ’ کشمیر بھارٹ کا اٹوٹ انگ ہے اور مجوزہ قانون مکمل طور پر انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے۔ پاکستان یا کسی فریق کا اس معاملے میں کوئی حق نہیں ہے۔‘

مجوزہ جیوسپیشیل ریگولیشن بل کو انڈیا میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے جو گوگل، ایپل اور اوبر کے ڈیجیٹل نقشوں کو بھی متاثر کرے گا۔

اس مجوزہ قانون میں سرحدوں کے بارے میں غلط اطلاعات کو بھی جرم تصور کیا جائےگا۔ انڈیا کی حکومت نے کہا کہ اس مجوزہ قانون سازی سےکاروبار متاثر نہیں ہوں گے۔

اس مجوزہ قانون پر تنقید کرنے والوں کا موقف ہے کہ اس بل کی تشریح اتنی وسیع ہے کہ اس کی زد میں چھپے ہوئے نقشے، ورلڈ اٹلس اور ملک میں آنے والے عالمی میگزین بھی آ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں