راجستھان میں طلبا اپنی جان کیوں لے رہے ہیں؟

Image caption نفسیات کے ماہرین جو ایسے طلبا کی کاؤنسلنگ کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انھیں اکثر رات کے دوران اس وقت مدد کے لیے طلب کیا جاتا ہے جب طلبا کو دباؤ کی وجہ سے نیند نہیں آتی ہے

انڈیا کی ریاست راجستھان کا شہر کوٹا اپنے تعلیمی مراکز کے لیے معروف ہے جہاں طلبا میڈیکل یا انجینیئرنگ جیسے اعلیٰ کورسز میں داخلے کے امتحانات کی تیاری کے لیے پڑھائی کرنے آتے ہیں۔

لیکن ایسے امتحانات میں طلبا پر کامیاب ہونے کا اتنا سخت دباؤ رہتا ہے کہ شہر اب بڑھتی ہوئی خودکشیوں کے لیے بھی معروف ہوگيا ہے۔

حال ہی میں کوٹا کے ایک سٹڈی سینٹر میں پڑھنے والی ایک طالبہ نے اپنے خودکش نوٹ میں ان تعلیمی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا تھا: ’یہ تھکا کے رکھ دیتے ہیں۔‘

یہ لڑکی جس عمارت میں قیام پذیر تھی وہاں اس نے 28 اپریل کو پانچویں منزل سے کود کر خودکشی کر لی تھی۔

پانچ صفحے کے اپنے خودکش نوٹ میں اس طالبہ نے حکومت پر ان تعلیمی مراکز کو جتنی جلدی ممکن ہو بند کرنے کی اپیل کی تھی۔

ایک سینیئر پولیس افسر ہریش بھارتی نے اس نوٹ کی تفصیلی بتاتے ہوئے کہا کہ اس لڑکی نے ٹیسٹ پاس کر لیا تھا اور انجینیئرنگ کے کالج میں داخلے کی مستحق بھی تھیں۔

Image caption آئی آئی ٹی جیسے معروف کالج میں داخلے کے لیے ہر برس تقریبا ڈیڑھ لاکھ طلبا کوٹا کوچنگ کے لیے آتے ہیں اور وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہورہا ہے

انھوں نے بتایا: ’لیکن انھوں نے اس طرح کا انتہائی سخت قدم اٹھایا کیونکہ وہ انجینیئرنگ کرنا ہی نہیں چاہتی تھیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ انھیں کوچنگ کلاسز کا اتنا زبردست دباؤ تھا کہ وہ اسے برداشت نہیں کر پا رہی تھیں۔‘

19 سالہ سورو کمار بھی اس طرح کے دباؤ سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کے ذہن میں بھی ہر روز اسی طرح اپنے آپ کو ختم کر کے احساسات پیدا ہوتے رہے تھے۔

سورو خود اپنے سکول کے سب سے نمایاں طالب علم تھے لیکن جب اچھے کالج میں داخلے کی غرض سے وہ کوٹا کے ایک کوچنگ سینٹر پڑھنے آئے تو ان پر شدید دباؤ تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ان پر والدین کی توقعات پر پورا اترنے کا شدید ترین دباؤ تھا۔ ’میرے والدین کو لگتا تھا کہ میں سٹڈی سینٹر میں بہت اچھا کر رہا ہوں اور اچھے نمبر حاصل کر رہا ہوں۔ لیکن میں اس دباؤ کو برداشت نہیں کر پایا۔ اپنے دوسرے ساتھیوں کو دیکھ کر میں افسردہ رہنے لگا۔ میں اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہونے لگا اور خودکشی کرنے والے خیالات آنے لگے۔‘

سورو کمار خوش قسمت تھے کہ جب وہ رات کو خودکشی کرنے والے تھے اس وقت انھیں طبی امدادا ملی اور ان کی جان بچ گئی لیکن ایسے دیگر طلبا کو بچایا نہیں جا سکا۔

Image caption سورو کمار خوش قسمت تھے کہ جب وہ رات کو خودکشی کرنے والے تھے اس وقت انہیں طبی امدادا ملی اور ان کی جان بچ گئی لیکن ایسے دیگر طلبا کو بچایا نہیں جا سکا

پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق کوٹا میں گذشتہ پانچ برسوں میں 73 ایسے طلبا نے خود کشی کی ہے۔

اب حکام نے بھی اس کا نوٹس لیا ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

نفسیات کے ماہرین جو ایسے طلبا کی نفسیاتی طور پر رہنمائی کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انھیں اکثر رات کے دوران اس وقت مدد کے لیے طلب کیا جاتا ہے جب طلبا کو دباؤ کی وجہ سے نیند نہیں آتی ہے۔

نفسیات کے ایک ماہر ڈاکٹر ایم ایل اگروال کا کہنا ہے کہ طلبا پڑھائی کے سخت نظام الوقات اور بار بار ہونے والے ٹیسٹ سے پریشان ہونے سے ان سے مدد طلب کرتے ہیں۔

ڈاکٹر اگروال کی کلینک میں ایسے کئی طلبا کا علاج کیا جارہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اکثر اوقات میں خود والدین کو کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ اکثر ایسے والدین سے کہتے ہیں کہ اپنے بچوں سے وہ اس طرح کی توقات رکھیں جن کا حقیقی معنوں میں پورا ہونا آسان ہو۔

کوٹا شہر میں ہر جانب ایسے بورڈ لگے ہوئے نظر آتے ہیں جن پر اس طرح کے تعلیمی مراکز کے اشتہارات ہوتے ہیں اور بعض ہورڈنگ پر تو کامیاب طلبا کی تصاویر بھی ہوتی ہیں۔

ایسی کوچنگ کلاسز کے لیے دوسال میں تقریباً دو لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے جو ایک عام انڈین شہری کے لیے بڑی رقم ہے۔

لیکن والدین اس کی پرواہ نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنے بچوں کو کسی اعلیٰ میڈیکل کالج یا پھر انجینیئرنگ کالج میں کسی بھی صورت میں داخلے کے متمنی ہوتے ہیں۔

کسی باوقار کالج سے ملنے والی ڈگری کا مطلب ایک اچھی نوکری تلاش کرنا ہوتا ہے لیکن یہ سب بھی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔

آئی آئی ٹی جیسے معروف کالج میں داخلے کے لیے ہر برس تقریباً ڈیڑھ لاکھ طلبا کوٹا کوچنگ کے لیے آتے ہیں اور وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے طلبا کا تناؤ کو کم کرنے کے لیے بعض اقدامات کیے ہیں اور تعلیمی نطام الوقات وغیرہ میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ خود کشیوں کو روکا جا سکے۔

اسی بارے میں