شاہ رخ کے ایرانی دیوانے

انڈین وزیراعظم نریندر مودی ایران کا دورہ کر رہے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی خبریں انڈیا میں خوب گرم ہیں۔ لیکن میں نے پچھلے سال ایران میں جو وقت گزارا اس سے اس ملک کے بارے میں مجھے جو معلومات حاصل ہوئیں وہ کسی بھی سیاسی تجزیہ کار سے نہیں مل سکتی تھیں۔

1 ہم سب شاہ رخ خان کے دیوانے ہیں

ایران میں کئی اجنبی بڑی مجھ سے گرمجوشی سے ملے۔ اس کی ایک وجہ بالی وڈ تھا۔

تہران میں میرے قیام کے پہلے دن صداباد محل کے باہر ایک محافظ نے مجھ سے جھجھکتے جھجھکتے پوچھا: ’کیا آپ ہندوستانی ہیں؟ کیا آپ شاہ رخ خان کو جانتی ہیں؟‘

شاہ رخ خان بالی وڈ کے ان گنے چنے فن کاروں میں سے ایک ہیں جن کے مداح دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

2 لپ سٹک کا عشق

سفر کے دوران میں مقامی لباس میں تصاویر لے رہی تھی کہ ایک معمر خاتون میری طرف بڑھیں۔ ہم نے بات کرنے کی کوشش کی لیکن ایک دوسرے کی زبانوں سے ناواقفیت آڑے آ گئی۔

پھر انھوں نے انڈین خواتین کی طرح لپ سٹک لگانے اور ماتھے پر بندیا لگانے کی نقل اتاری۔ جب مجھے سمجھ آ گئی کہ وہ کیا چاہتی ہیں تو میں نے اپنی لپ سٹک انھیں دے دی۔ انھوں نے بڑی مہارت سے اسے اپنے ہونٹوں پر لگایا اور آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ کر نئی نویلی دلھنوں کی طرح شرما گئیں۔

پھر انھوں نے لپ سٹک ہونٹوں سے ہٹائی، مجھے گلے سے لگایا اور چل دیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا چاہتی تھیں، بس اتنا پتہ ہے کہ یہ دو خواتین کے درمیان یکجہتی کا ایک ایسا لمجہ تھا جو الفاظ کا محتاج نہیں ہوتا۔

3 فیشن اور پلاسٹک سرجری

جب میں ایران پہنچی تو میں ایرانی خواتین کے معاشرے میں مقام کے بارے میں جاننے کی خواہش مند تھی۔

ایران کی سڑکوں پر گھومتے پھرتے ہوئے میں نے ایران خواتین کو اپنے لباس کے ذریعے فیشن کا اظہار کرتے ہوئے پایا۔

نوجوان لڑکیاں جینز میں ملبوس نظر آتی ہیں، اور ان کے عمدگی سے بنے بال رنگارنگ دوپٹوں میں سے صاف نظر آتے ہیں، اور ان کے ہاتھوں میں خوبصورت بیگ ہوتے ہیں۔

میں نے لڑکوں اور لڑکیوں کو پارکوں میں ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے بیٹھے دیکھا۔

پھر ایک عجیب چیز دیکھنے کو ملی۔ ہر گلی میں کوئی نہ کوئی عورت نظر آتی جس کے ناک پر پٹی بندھی ہوتی تھی۔

مجھے حیرت تھی کہ اتنی عورتوں کی ناکیں بیک وقت کیسے زخمی ہو گئیں؟ آخر میں نے کسی سے پوچھ ہی لیا۔ معلوم ہوا کہ ان عورتوں کی ناکیں کسی حادثے میں نہیں زخمی ہوئیں بلکہ انھوں نے ان کو خوبصورت بنانے کے لیے پلاسٹک سرجری کروائی ہے۔

ظاہر ہے کہ کسی وجہ سے ایرانی خواتین ناک کی شکل پر بہت توجہ دیتی ہیں۔ یہ ایسی بات تھی جس کا مجھے یہاں آنے سے قبل کوئی علم نہیں تھا۔

4 ایرانی سبزی خور

میں خالص سبزی خور ہوں اور مجھے تشویش تھی کہ مجھے ایران میں مشکل پیش آئے گی جیسا کہ میرے ساتھ پہلے چین میں ہو چکا تھا۔

لیکن معلوم ہوا کہ ہماری خوراک کی ثقافت مشترکہ ہے، اور یہاں پارسی ویجی ٹیریئن کھانا میرے کام آیا۔

زرتشتی مذہب دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے جو آج سے ساڑھے تین ہزار سال قبل ایران میں قائم کیا گیا تھا۔

دسویں صدی میں پارسی ایران سے بھاگ کے گجرات جا پہنچے جہاں آج انھیں پارسی کہا جاتا ہے۔

ایران میں پارسی ریستورانوں میں ویجی ٹیرین کھانا عام مل جاتا ہے۔

5 ہیرے ہمیشہ کے لیے نہیں؟

مجھے تہران کا قومی زیورات کا عجائب گھر دیکھنے میں دلچسپی تھی جس میں کئی ایسے ہیرے موجود ہیں جو انڈیا سے لائے گئے تھے۔ اس میں دریائے نور نامی مشہور ہیرا بھی شامل ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا گلابی ہیرا ہے۔

تاریخ دانوں کا دعویٰ ہے کہ اسے نادر شاہ دہلی سے لوٹ کر ساتھ لے آیا تھا، لیکن برطانیہ سے کوہِ نور کے مطالبے کی طرح انڈیا نے کبھی اس ہیرے کی واپسی کا ایران سے مطالبہ نہیں کیا۔

ہیرا دکھانے سے پہلے ایرانی گائیڈ نے انڈین سیاحوں سے کہا: ’ماضی کی باتیں جانے دیں۔‘

دراصل دونوں ملکوں کے تعلقات کھانے، شاعری اور فلموں تک محدود نہیں ہیں۔ تیل، پابندیاں، سفارت کاری، حکمتِ عملی اور دوسری بہت سی چیزیں بھی ہیں۔

لیکن بطور ایک انڈین سیاح ایران میں گھومتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ سیاسی اختلاف کے باوجود ہمارے درمیان بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔