’امیر جو بھی ہو، پالیسیاں وہی رہیں گی‘

Image caption رحیم اللہ یوسف زئی کے بقول جو بھی نیا امیر مقرر ہوگا اس سے طالبان کی پالیسیوں میں فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئے گی

افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے ابھی تصدیق نہیں کی کہ ملا اختر منصور ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں اور جب تک وہ تصدیق نہیں کرتے، یہ خبر مصدقہ نہیں کہلائی جا سکتی۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بعض اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے کمانڈر ملا عبدالروف نے طالبان کے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، لیکن بعد میں ملا عبدالروف نے اس کی تردید کر دی۔

رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ طالبان کی تردید کے باوجود ایسے ٹھوس شواہد ملے جن سے تصدیق ہوتی ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور ہی امریکی ڈرون حملے کا نشانہ تھے۔

ان کے بقول ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق افغان حکام کی جانب سے کی جا رہی ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ انھیں یہ خبر امریکی حکام نے دی ہو گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کے سربراہ کو پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علاقے نوشکی کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

ان کے بقول تمام تر معلومات کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ جب تک طالبان اس بات کی تصدیق نہیں کرتے، ہم اس خبر کو مصدقہ نہیں کہہ سکتے۔

ایک سوال کے جواب میں رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ ملا اختر منصور امن مذاکرات کے مخالف تھے اس لیے امریکہ ان کو امن کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر دیکھتا تھا اور شاید اسی لیے امریکہ نے انھیں نشانہ بنایا ہے۔

رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ افغان اور امریکی حکام پاکستان سے کہتے آئے ہیں کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کرے یا پھر افغان طالبان کے خلاف کارروائی کرے، جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ اس سلسلے میں ہر ممکن مدد کرے گا، لیکن افغان طالبان کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی کیونکہ پیچھلے 15 سالوں میں امریکہ اور اتحادی افواج کی کا جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے باوجود امن قائم نہیں کیا جا سکا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے کے بعد امن مذاکرات بالکل ناممکن ہو جائیں گے اور عین ممکن ہے کہ طالبان کی کارروائیوں میں تیزی آ جائے۔

ایک سوال کے جواب میں رحیم اللہ یوسف زئی نے بتایا کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کی صورت میں ملا ہیبت اللہ خانزادہ یا پھر سراج الدین حقانی کو طالبان کا نیا سربراہ منتخب کیا جا سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کے سابق سربراہ ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کو بھی سربراہ بنایا جا سکتا ہے اور ان کے نام پر طالبان کے تمام دھڑوں میں اتفاق آسان ہو گا۔

رحیم اللہ کے بقول جو بھی نیا امیر آئے گا اس سے طالبان کی پالیسیوں میں فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

اسی بارے میں