افغانستان: عدالت کے عملے کی بس پر حملہ، دس افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملے کے بعد پولیس نے علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی ہے

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ ایک بس پر ہونے والے حملے میں دس افراد ہلاک جبکہ چار زخمی ہو گئے ہیں۔

اس بس ایک اپیل کورٹ کا عملہ سفر کر رہا تھا۔

ابھی تک کسی نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

٭کابل خود کش حملےمیں گیارہ افراد ہلاک

وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نجیب دانش نے بتایا کہ بمبار پیدل تھا اور اس نے گاڑی کے پاس سے گزرتے ہوئے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

یہ واقعہ بدھ کی صبح رش والے وقت میں کابل کے مغربی علاقے میں پیش آیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق انھوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں عدالت کا عملہ اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔

وزارت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بس میدان وردک صوبے کو جا رہی تھی۔

خیال رہے کہ یہ حملہ طالبان کی جانب سے اپنے رہنما ملا اختر منصور کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق اور ان کے نائب ہیبت اللہ اخونزادہ کے ان کے جانشین بننے کے اعلان کے بعد ہوا ہے۔

اے پی کے مطابق اس سے قبل کابل میں 19 اپریل کو بڑا دھماکہ ہوا تھا جس میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں