طالبان، پوست اور کمزور حکومت

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption طالبان کی قیادت سنبھالنے کے بعد ملا منصور نے کروڑوں ڈالر مالیت کی منشیات کے کارٹل کو ایک نئی جہت سے متعارف کروایا

افغانستان میں گذشتہ سال ملا عمر کی موت کے بعد سے طالبان کی قیادت میں تبدیلی اور اب ملا اختر منصور کی ہلاکت کے نتیجے میں طالبان کے دھڑوں میں بے چینی ہے، جس سے افغانستان میں شدت پسندی اور عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔

ملا اختر منصور کی ہلاکت سے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو نقصان پہنچا ہے اور پاکستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے ڈرون حملے سے امریکہ نے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس کے علاوہ ملا منصور کی ہلاکت اور افغانستان میں عدم استحکام منشیات کی تجارت پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔

سنہ 2001 میں افغانستان میں امریکی مداخلت کے بعد خلیجی ممالک سے آنے والی آمدن کم ہو گئی تھی اس لیے طالبان کو نئے ذریعۂ معاش کی تلاش تھی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ملا اختر منصور نے طالبان کے لیے پوست کی کاشت اور تجارت کی صورت میں ایک نیا ذریعہ آمدن تلاش کیا، جس سے وہ اور اُن کے دوسرے قبائلی امیر ہو گئے۔

گذشتہ برس طالبان کی قیادت سنبھالنے کے بعد انھوں نے کروڑوں ڈالر مالیت کی منشیات کے کارٹل کو ایک نئی جہت سے متعارف کروایا۔

افغانستان نے منشیات کے پرانے اڈوں اور سنہری مثلث یعنی میانمار، لاؤس اور تھائی لینڈ کو اس معاملے میں کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے، لیکن کیا ملا منصور کی ہلاکت سے افغانستان میں پوست کی کاشت کم ہو جائے گی؟

افغانستان میں پوست کی تقریباً نصف پیداوار طالبان کے گڑھ ہلمند میں کاشت کی جاتی ہے۔

ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبے میں لڑائی میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ پوست کی کاشت میں کمی ممکن نہیں ہو گی۔

اس بات کے بھی شواہد ملے ہیں کہ کچھ کسانوں نے پوست کی کاشت چھوڑ کر دوسری سستی فصلیں اُگانا شروع کر دی ہیں۔ شاید اسی وجہ سے گذشتہ سال پوست کی پیداوار میں کمی ہوئی تھی۔

دوسری جانب حکومت کے زیرِ قبضہ علاقوں میں پوست کی کاشت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے میں نے افغانستان کے شمالی علاقے مزار شریف کے زرعی علاقوں کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں بھی پوست کی کاشت بڑھ رہی ہے حالانکہ طالبان کا اثر و رسوخ یہاں کبھی بھی نہیں رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

مقامی افراد سے بات کرنے پر اندازہ ہوا کہ پولیس اور حکام رشوت لے کر پوست کے کاشت کاروں کی حمایت کرتے ہیں اور انھیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

ایک کسان نے بتایا کہ ’وہ جانتے ہیں کہ ہم کاشت کر رہے ہیں لیکن وہ اس پر خاموش رہتے ہیں۔ معیشت کمزور ہے اور لوگوں کے پاس رقم نہیں ہے۔‘

’حکام جانتے ہیں کہ پوست ہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے لوگ پیسے کما سکتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اگر پابندی لگائی تو عوام بہت ناراض ہوں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اگر حکومت یہاں آ کر فصل تباہ کر دے تو وہ اُسے پہاڑوں پر اُگائیں گے۔ لوگ اپنے ہاتھ اُٹھا لیں گے اور اُن کے پاس بغاوت کے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہو گا۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ پوست کی کاشت کمزور حکومت کی عکاسی کرتی ہے اور اُن علاقوں میں اس کی کاشت زیادہ ہے جہاں مقامی حکام کے پاس کسانوں کی مدد کرنے کے لیے کوئی اور ذریعہ موجود نہیں ہوتا۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار میں سنہ 2002 سے دستیاب ڈیٹا کے مطابق سنہ 2014 میں نیٹو افواج کے انخلا کے سال میں سب سے زیادہ پوست کاشت کی گئی۔

ملا منصور تو ہلاک ہو گئے لیکن ملک میں دوسرے کامیاب کاروباروں کی عدم موجودگی کے سبب حکومت کے زیر قبضہ اور طالبان دونوں ہی کے علاقوں میں پوست کی کاشت اہم رہی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ طالبان کا رہنما چاہے کوئی بھی ہو، پوست کی کاشت میں افغانستان کو اہم مقام حاصل ہے۔

درحقیقت رواں سال کے دوران افغانستان اپنے عالمی صارفین کے لیے زیادہ پوست پیدا کرے گا جس سے ہیروئن بنے گی۔

اسی بارے میں