کیا یہ سب سے زیادہ نسل پرستانہ اشتہار ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Qiaobi

چین میں کپڑے دھونے والے پاؤڈر کی کمپنی کے اشتہار پر سوشل میڈیا پر کافی شور برپا ہے اور اس کو انتہائی نسلی پرست اشتہار قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن نسل پرستانہ اشتہار بازی صرف چین تک محدود نہیں۔

سیاہ فام شخص واشنگ مشین میں داخل ہوتا ہے اور مختلف رنگ میں دھل کر نکلتا ہے

اشتہار میں سین ہے کہ ایک عورت لانڈری کر رہی ہے۔ ایک سیاہ فام شخص داخل ہوتا ہے جس کے چہرے پر پینٹ کے دھبے لگے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Qiaobi

دونوں ایک دوسرے کی جانب دیکھتے ہیں۔ عورت مرد کے منہ میں واشنگ پاؤڈر ڈالتی ہے ۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ Qiaobi

۔۔۔ پھر اس مرد کو واشنگ مشین میں ڈال دیتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Qiaobi

واشنگ مشین سے جب سیاہ فام مرد باہر نکلتا ہے تو وہ گورے رنگ کا چینی شخص ہوتا ہے۔

لانڈری کرتی ہوئی عورت اس تبدیلی سے بہت خوش ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Qiaobi

پھر اشتہار میں کہا جاتا ہے ’تبدیلی کا آغاز کیوبی سے‘۔

یہ اشتہار ایک ماہ پرانا ہے لیکن اس پر سوشل میڈیا میں شور 24 گھنٹے قبل سے پڑنا شروع ہوا ہے۔ یہ اشتہار چین میں ٹی وی اور سینما گھروں میں دکھائے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other

لیکن اس پر ہنگامہ اس وقت برپا ہوا جب امریکی شخص کرسٹوفر پاول نے شیئر کیا۔

چین کے ایک شخص نے ٹوئٹ کیا ’خدارا۔ کیا چین کی مارکیٹنگ کمپنیوں کو کسی نے نسل پرستی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔‘ کیوبی کے مالک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’مجھے ایڈورٹائزنگ کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ جب تک اشتہار نسل پرستانہ ہونے کے بارے میں نشاندہی نہیں کی گئی ان کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوا۔ ’صاف بات یہ ہے کہ میں نے اشتہار پر زیادہ غور نہیں کیا۔‘

یہ اشتہار اٹلی کے ایک واشنگ پاؤڈر کی کاپی ہے جس میں چینی اشتہار کے برعکس ہوتا ہے۔ اٹلی کے اشتہار میں ایک ایک سفید فام شخص کو لانڈری میں ڈالا جاتا ہے اور وہ سیاہ فام ہو کر نکلتا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ چین میں نسل پرستانہ اشتہار بنا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other

نوے کی دہائی میں چین میں ڈارلی ٹوتھ پیسٹ کا ترجمہ ’سیاہ فام کی ٹوتھ پیسٹ‘ کیا گیا۔ اس سے قبل اس ٹوتھ پیسٹ کو ’ڈارکی‘ کہا جاتا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کو اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ اس کا نام کیوں تبدیل کیا گیا تھا۔

حال ہی میں ہانگ کانگ میں ایک انشورنس کمپنی کے اشتہار میں ایک مرد کو فلپائن کی نوکرانی کی طرح کا لباس پہنائے دکھایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other

اس اشتہار پر ہانگ کانگ کے لوگ زیادہ خوش نہیں ہوئے۔

چین کا رویہ نسل پرستی کی جانب کافی گھمبیر ہے۔

چند سال قبل چین کی مشہور بیئر ہاربن نے باسکٹ بال کھلاڑی شکیل اونیل کو بیئر کی تشہیر کے لیے مدعو کیا۔

لیکن چین کے مشہور انٹرنیٹ فورم تیانیا پر کچھ لوگ شکیل کو مدعو کرنے پر خوش نہیں ہوئے اور چند افراد نے اس فورم پر نسل پرست اور ہتک آمیز تبصرے کیے۔

2008 میں نسلی تعصب کے خاتمے کے حوالے سے 16 ممالک میں کیے گئے سروے میں چین دوسرے نمبر پر آیا جس میں 90 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ نسلی برابری اہم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other

تازہ اعداد و شمار کے مطابق چین میں چھ لاکھ غیر ملکی ہیں جن میں سے بہت کم سیاہ فام ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 1.3 بلین لوگوں میں سے بہت کم لوگوں کو سیاہ فام افراد سے میل جول کا موقع ملا ہے۔

رنگ گورا کرنے کے متنازع اشتہارات ایشیا میں خوبصورت ہونے کا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

فلپائن میں سفید رنگ مخلوط آبا و اجداد کی علامت ہے۔ وہاں پر بیوٹی پولز کیے جاتے ہیں جن میں گورا کرنے والے صابن اور کومیٹکس کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔

اسی بارے میں