مودی کی سب سے بڑی کامیابی: کرپشن پر قابو

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نریندر مودی نے دو سال قبل 26 مئی کو وزارت عظمی کا حلف لیا تھا

انڈیا میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے دو برس پورے ہونے پر مختلف وزارتیں اپنی اپنی کامابیوں کی تفصیلات پیش کر رہی ہیں۔ ملک کے اخبارات اور ٹیلی ویژن پر بڑے بڑے اشتہارات دکھائے جا رہے ہیں۔

وزرا الگ الگ مقامات پر پریس کانفرنسوں کے ذریعے ملک کی عوام کو یہ بتا رہے ہیں کہ مودی حکومت نے گزرے ہوئے دو برس میں جو کر دکھایا ہے وہ آج تک کوئی حکومت نہیں کر سکی۔

مودی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہےجو وہ عوام کےسامنے اپنی کامیابی کے طور پرپیش کر سکے۔

اگر گذشتہ دو برس کا جائزہ لیں تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کی مہنگائی پہلے سے بڑھی ہے۔ متوسط طبقے کو پہلے سے زیادہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے اور ملازمتوں کے مواقع کم ہوگئے ہیں۔ معیشت سست روی کا شکار ہے اور بازار آگے بڑھتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔

لیکن اس صورتحال کا موازنہ بین الاقوامی معیشت سے کریں تو بھارت کی کارکردگی اقتصادی اعتبار سے بہتر رہی ہے۔ اقتصادی ماہرین رواں برس انڈیا کی حالت میں مزید بہتری کے آثار ریکھ رہے ہیں۔ بعض اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں اگر معاشی حالت اچھی رہی تو آئندہ برس اقتصادی اعتبار سے گذشتہ 20 برس کے بہترین تین برس ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WWW.HIMANTABISWASARMA.COM
Image caption مودی نےحکومت کے لیےجو پیشہ ورانہ طرز عمل اختیار کیا ہے اس سے صرف مرکز میں تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ اس کا پورے ملک کے علاقائی سیاسی نظام پر بھی گہرا اثر پڑ رہا ہے

غالباً نہرو کے بعد مودی پہلے ایسے وزیر اعظم ہیں جو اتنےمتحرک اور فعال رہے ہیں۔ مودی ذاتی طور پراس قدر چستی اور توانائی کےساتھ کام کرتے ہیں کہ خود ان کی اپنی جماعت کے وزرا اور رہنما ان کا ساتھ نہیں دے پا رہے ہیں۔

مودی نے وزارت عظمیٰ کا طریقۂ کار ہی بدل دیا ہے۔ مخالفین کی جانب سےکچھ نہ کرنے کی تمام نکتہ چینیوں کے برعکس وزارت عظمیٰ کا دفتر کسی تعطیل اور رکاوٹ کے بغیر ہر وقت چلتا رہتا ہے۔ خود مودی نے وزیر اعظم کےطور پر دو برس میں ایک دن کی بھی چھٹی نہیں لی ہے۔

وہ ہر ہفتے کبھی وزرا کے ساتھ تو کبھی اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کےساتھ ان کی کارکردگی کا بذات خود جائزہ لیتے ہیں۔ پچھلےدو برس کےدوران جتنی ریاستوں کا اور جس تسلسل کےساتھ انھوں نے دورے کیے وہ اس مدت میں ملک کا کوئی بھی وزیر اعظم نہیں کر سکا ہے۔ غیر ممالک کے دورے کے سلسلے میں تو انھوں نے پہلے ہی سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

کانگریس کی تباہی سیاسی طور پر ان کی بڑی کامیابیوں میں شمار کی جائے گی۔ بی جے پی اب ایک ملک گیر جماعت بن چکی ہے۔ اسے ملک گیر سطح پر اب کسی ایک جماعت کا سامنا نہیں ہے۔ نظریاتی طور پر ان کی حکومت آر ایس ایس کے ہندوتوا کے ایجنڈے پر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ آسام کی تاریخی جیت کے بعد ہندوتوا کا ایجنڈا اور بھی کھل کر سامنے آنے کی توقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بیرون ملک کے دورے میں وہ پہلے ہی سب کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں

لیکن مودی کی سب سےبڑی کامیابی مرکز کے سیاسی نظام میں کرپشن پرقابو پانا ہے۔ مودی نے حکومت کا ایک ایسا طریقہ اختیار کیا ہےکہ وزرا اور اعلیٰ اہلکار نہ صرف بدعنوانی سے ڈرنے لگے ہیں بلکہ ان کے لیے بدعنوانی کا ارتکاب کرنے کے راستے بھی مسدود کر دیے گئے ہیں۔

وزارتوں اور مرکزی محکموں میں تبادلوں اورتقرریوں کےتمام معاملات وزارت عظمیٰ کےدفتر کی منظوری سے ہی ہوتے ہیں۔ وزرا سے اس طرح کے اختیارات لے لیے گئے ہیں۔ وزرا کے بغیر اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کی وزیر اعظم سے ملاقاتوں سے اہلکار بھی اب پیشہ ورانہ طریقے سے کام کررہے ہیں۔

وزارتوں کی کارکردگی کے سہ ماہی جائزے سے ہر کوئی اپنا کام بہتر کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ سرکاری نیلامیاں اور سودے شفافیت کےساتھ کیے جا رہے ہیں۔ تمام محکموں میں تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کے نفاذ سے رشوت خوری اور دفتری کاموں میں سست روی کا چلن کم ہوا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ گزرے ہوئے دو برس میں وزیر اعظم مودی کی حکومت پر خواہ کوئی بھی تنقید ہوئی ہو لیکن بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں لگا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption دو سال میں مودی نے ایک دن کی بھی چھٹی نہیں لی ہے

مودی نے حکومت کا جو طریقہ اختیار کیا ہے اس سے حزب اختلاف ہی نہیں ان کی اپنی جماعت بھی مانوس نہیں تھی۔ مودی کا طریقۂ کار پیشہ ورانہ اور کارپوریٹ طرز کا ہے جس میں ہر کوئی اپنی ذمے داریوں کے لیے جوابدہ ہے۔

مودی کے اس طرزعمل کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ سارے اختیارات وزارت عظمیٰ اور خود مودی کے ہاتھ میں مرکوز ہوگئے ہیں۔ اعلیٰ اہلکار ہی نہیں ان کے وزرا بھی مودی سے ڈرتے ہیں اور کسی طرح کے اختلافات سے گریز کرتے ہیں۔ حکومت اور پارٹی دونوں مودی کی مضبوط گرفت میں ہیں۔

مودی نےحکومت کے لیے جو پیشہ ورانہ طرز عمل اختیار کیا ہے اس سے صرف مرکز میں تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس کا پورے ملک کے سیاسی نظام پر بھی گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ بی جے پی خود کو تیزی سےمودی کےطرز میں ڈھال رہی ہے لیکن ملک کی باقی تمام سیاسی جماعتیں اس سیاسی تغیر کو ابھی سمجھ نہیں پائی ہیں۔ وہ ابھی تک سیاست کی اپنی روایتی روش پر قائم ہیں۔ دو برس میں مودی نے بی جے پی کے لیے ایک بہترین مستقبل کی بنیاد رکھ دی ہے۔

اسی بارے میں