دہلی میں افریقی نژاد شہریوں پر حملے، چار گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY
Image caption چند روز قبل دہلی میں ہی کانگو کے ایک طالب علم کا قتل ہوا تھا

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس نے افریقی نژاد افراد پر ہونے والے حملے میں ملوث چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔

جمعرات کو چرچ سے واپس لوٹنے والی افریقی نژاد دو خواتین کے ساتھ مقامی افراد کی تکرار ہوئی اور معاملہ مار پیٹ تک پہنچ گیا تھا۔

جنوبی دہلی کے ڈپٹی کمشنر ایشور سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مہرولی تھانے کے دونوں گاؤں میدان گڑھي اور راج پور خورد انتہائی روایتی گاؤں ہیں۔ یہاں پیش آنے والے واقعے کو میڈیا جس طرح سے پیش کر رہا ہے کہ یہ نسلی حملہ ہے، ایسا قطعی نہیں ہے۔‘

خارجہ امور کے وزیر مملکت خارجہ جنرل (ریٹائرڈ) وی کے سنگھ نے اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’دہلی پولیس کے ساتھ تفصیل سے بات چیت کی اور پتہ چلا کہ راج پور خورد میں افریقی نژاد شہریوں کے ساتھ ہونے والے چھوٹے سے واقعے کو میڈیا بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میڈیا ایسا کیوں کر رہا ہے؟ ملک کے ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمیں ان کے اس مقصد پر سوال اٹھانے چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption سشما سوراج نے بھی کہا ہے کہ ان علاقوں میں آگہی مہم چلائی جائے گی

اس سے پہلے وزیر خارجہ سشما سوراج نے اتوار کو وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور دہلی کے نائب گورنر نجیب جنگ سے افریقی طالب علموں کی حفاظت پر بات چیت کی تھی۔

وزیر داخلہ راج ناتھ نے دہلی پولیس کو حملہ آوروں کے خلاف سخت قدم اٹھانے کا حکم دیا ہے اور ان علاقوں میں پولیس گشت بڑھانے کے لیے بھی کہا ہے جن علاقوں میں افریقی نژاد افراد رہتے ہیں۔

سشما سوراج نے بھی کہا ہے کہ ان علاقوں میں آگہی مہم چلائی جائے گی۔

سشما سوراج نے وزیر ریاست وزیر جنرل (ریٹائرڈ) وی کے سنگھ اور سیکریٹری خارجہ امر سنہا سے کہا کہ وہ افریقی طالب علموں سے ملاقات کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ROSHAN JAISWAL
Image caption وزیر داخلہ راج ناتھ نے دہلی پولیس کو حملہ آوروں کے خلاف سخت قدم اٹھانے کا حکم دیا ہے

سوراج نے ٹویٹ کیا کہ ’میں نے جنوبی دہلی میں افریقی نژاد لوگوں پر حملے کے معاملے میں راج ناتھ سنگھ اور دہلی کے گورنر سے بات کی ہے۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قصورواروں کو جلد سے جلد گرفتار کیا جائے گا۔ جن علاقوں میں افریقی نژاد لوگ رہتے ہیں وہاں آگہی مہم بھی شروع کے جائے گی۔‘

بی بی سی سے بات چیت میں جنوبی دہلی کے ڈپٹی کمشنر ایشور سنگھ نے کہا تھا، ’خواتین نے ’اس طرح‘ کے کپڑے پہنے تھے، ان کا جوڑا مقامی لوگوں کے مطابق نہیں تھا۔‘

چند روز قبل دہلی میں ہی کانگو کے ایک طالب علم کے قتل کے بعد افریقی ممالک کے سفارت کاروں نے حکومت ہند کے افریقہ ڈے تقریب کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔