افغانستان: پولیس کی نگرانی میں پوست کی کاشت

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption افغانستان میں تمام تر کوششوں کے باوجود پوست کی کاشت روکی نہیں جا سکی۔

افغانستان میں اس برس پوست کی پیداوار میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اگرچہ ملک میں پوست کی کاشت روکنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں لیکن ملک میں کچھ مقامات پر کسانوں کو مقامی انتظامیہ کی حمایت حاصل ہے اور وہ کھلے عام پوست کی کاشت کر رہے ہیں۔

مزارِ شریف کا شمار افغانستان کے محفوظ ترین کے شہروں میں ہوتا ہے۔ اس شہر میں حکومت کی مکمل عملداری ہے لیکن مزارِ شریف سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر آپ کو پوست کی فصل کاشت ہوئی نظر آئے گی۔

شہر سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ایک گاوں میں پوست کی فصل میں کچھ لوگ کام کر رہے تھے اور مجھے دیکھ کر انھوں نے کسی قسم کا ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔

میرے گائیڈ نے اشارے سے مجھے بتایا کہ میں کھیت میں جا سکتا ہوں۔

یقین نہیں آتا کہ یہ فصل دنیا میں بہت سے مصائب اور تنازعات کا باعث ہے۔

ایک لمحے میں اپنے ماضی میں چلا گیا اور مجھے وہ لوگ یاد آئے جو اس کے نشے کے عادی تھے ان میں سے دو کی اب موت واقع ہو چکی ہے۔

کھیتوں میں کام کرنے والے ایک شخص سے میں نے پوچھا کہ کیا کبھی آپ کا دل نہیں کیا اس نشے کو کرنے کا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پوست کی کاشت روکنے کے لیے امریکہ اور اتحادی افواج نے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں

اس نے جواب دیا کہ ’میں اگر اس کا استعمال کروں گا تو میں اس کے نشے کا عادی ہو جاوں گا، میرا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔میں نے شہروں میں دیکھا ہے جو لوگ اس کا استعمال کرتے ہیں ان کی زندگیاں برباد ہو جاتی ہیں۔‘

میں نے اس شخص سے پوچھا تمہیں اس کی پیدوار میں معاونت کرنے پر ندامت نہیں ہوتی؟

تو اس کا جواب تھا کہ ’میرے پاس روزگار کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے اور یہاں کام کرنے کے اچھے پیسے ملتے ہیں۔‘

میرے لیے ترجمہ کرنے والے میرے ساتھی نے مجھے بتایا کہ اس کھیت کا مالک آ رہا ہے ہمیں اس سے ملنا چاہیے۔

اس شخص کے ساتھ ایک پولیس اہلکار بھی موجود تھا۔

افغانستان میں میں پوست کی کاشت کرنا سنگین جرم ہے لیکن یہاں ایک پولیس اہلکار کی موجودگی میں نہ صرف پوست کی کاشت کر جارہی تھی بلکہ بی بی سی کے نمائندے کو اس کے بارے میں بتایا بھی جا رہا تھا۔

پوست کاشت کرنے والے کسان نے مجھے اپنی دیگر فصلیں بھی دیکھائیں۔ اس کے مطابق وہ گندم ،کپاس اور تربوز بھی کاشت کرتا ہے لیکن پوست کاشت کرنا اس کی مجبوری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس نے مجھے بتایا کہ’پوست کی فصل میں تین گناہ منافع ملتا ہے، میرا خاندان 12 افراد پر مشتمل ہے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے مجھے پیسے کی ضرورت ہے۔‘

میں نے وہاں موجود پولیس اہلکار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت کو معلوم نہیں ہے اور وہ آپ کو روکنے کی کوشش نہیں کرتی؟

’یقیناً انھیں معلوم ہے لیکن انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہم صرف اسی فصل سے معقول آمدنی کر سکتے ہیں، وہ ہماری مدد کرتے ہیں ہم ان کی۔‘

پولیس اہلکار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے مجھے بتایا کہ ’یہ بھی میری طرح اور دیگر کسانوں کی طرح ایک مقامی شخص ہیں اور انھیں معلوم ہے کہ ہماری کیا مجبوریاں ہیں، ہم سب میں بھائی چارہ ہے۔‘

اس دوران پولیس اہلکار نے سر ہلا کر اس بات سے اتفاق کیا۔

اسی بارے میں