ایورسٹ کی بلند جھیل سے پانی کے اخراج پر کام شروع

تصویر کے کاپی رائٹ Nepal Army

نیپالی فوج نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ کے قریب بننے والی جھیل سے پانی کو کم سطح پر لانے کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔

عالمی حدت کی وجہ سے پانچ ہزار دس میٹر کی بلندی پر بننے والی امجا نامی اس جھیل میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔

ایک حالیہ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ گذشتہ برس نیپال میں آنے والے شدید زلزلے نے ماؤنٹ ایورسٹ کے علاقے میں واقع امجا جھیل کو غیر مستحکم کر دیا تھا۔

نیپالی حکام نےکہا ہے کہ امجا جھیل میں پانی کی سطح میں کمی لانے کے لیے دو عالمی ٹینڈر جاری کیے گئے لیکن کسی طرف سے کوئی دلچسپی ظاہر نہ ہونے پر یہ کام فوج کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ جھیل میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اس کے ٹوٹنے کی صورت میں نیچے شرپا آبادیوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی حدت کی وجہ سے کوہ ہمالیہ میں گلیشئیروں کے پگھلنے سے امجا جیسی خطرناک جھیلوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Nepal Army

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امجا جھیل ٹوٹی تو ماؤنٹ ایورسٹ کو جانے والے راستے اور دوسرے انفرسٹرکچر بری طرح متاثر ہوں گے۔

نیپال آرمی کے لیفٹیننٹ کرنل بھرت لال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگلے چند ماہ میں امجا میں پانی کی سطح کو کم از کم تین میٹر تک کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ کم از کم 40 آرمی اہلکار اور مقامی شرپا پانچ ہزار میٹر کی بلندی پر شدید موسمی حالات میں یہ کام کر رہے ہیں۔

ماؤنٹ ایورسٹ کے قریب واقع سے پانی کے اخراج کا منصوبہ اقوام متحدہ کی مدد سے مکمل کیا جا رہا ہے۔

نیپال میں پچھلے پچھلے کچھ عشروں میں بلند سطح پر بننے والے جھیلوں کے ٹوٹنے کے 20 واقعات پیش آ چکے ہیں اور ان میں سے تین ماؤنٹ ایورسٹ کے علاقے میں تھیں۔

اسی بارے میں