گجرات:گلبرگ قتلِ عام کیس میں 24 ملزمان پر جرم ثابت

Image caption مشتعل ہجوم نے 28 فروری سنہ 2002 کو احمد آباد کی گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی میں داخل ہو کر 69 افراد کو قتل کر دیا تھا

انڈیا کی ریاست گجرات میں خصوصی عدالت نے سنہ 2002 میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران دارالحکومت احمد آباد کی گلبرگ سوسائٹی میں ہونے والے قتلِ عام کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے 24 ملزمان کو قصوروار قرار دیا ہے۔

جن افراد کو عدالت نے مجرم قرار دیا ہے اس میں سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کے ایک رہنما اتل ویدیہ اور کانگریس کے سابق کونسلر میگھ جي چودھری بھی شامل ہیں۔

قصوروار قرار دیے جانے والے 24 میں سے 11 مجرموں کو قتلِ عمد کی دفعہ 302 کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے۔ تمام مجرمان کی سزا کا تعین چھ جون کو کیا جائے گا۔

خصوصی عدالت کے جج پی وی دیسائی نے جمعرات کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے 36 دیگر ملزمان کو بری بھی کر دیا جن میں گجرات پولیس کے انسپكٹر جی اردا اور بی جے پی کے کونسلر وپن پٹیل بھی شامل ہیں

ایک مشتعل ہجوم نے 28 فروری سنہ 2002 کو احمد آباد کی گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی میں داخل ہو کر 69 افراد کو قتل کر دیا تھا جن میں کانگریس کے سابق رکن پارلیمان احسان جعفری بھی شامل تھے۔

یہ فسادات گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس ٹرین پر ہونے والے حملے کے بعد ہوئے تھے جس میں 59 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تو ملک کے موجودہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اس وقت گجرات کے وزیرِ اعلیٰ تھے۔

Image caption جن افراد کو عدالت نے مجرم قرار دیا ہے اس میں سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کے ایک رہنما اتل ویدیہ بھی شامل ہیں

خصوصی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔

احمد آباد کی گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی کا یہ مقدمہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں چلا۔ گجرات فسادات سے متعلق دیگر مقدمات بھی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جاری ہیں۔

28 فروری کے حملے میں فیروز گلزار خان پٹھان کے خاندان کے پانچ ارکان ہلاک ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں اس دن کا بےصبری سے انتظار تھا۔ ’میں چاہتا ہوں کہ قصور واروں کو پھانسی کی سزا ہو۔‘

یہ مقدمہ 67 افراد کے خلاف دائر ہوا تھا لیکن مقدمے کی سماعت کے دوران چار لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔

مقدمے میں بحث کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ اس دن مشتعل ہجوم سوسائٹی کے اندر گھس آیا اور چار گھنٹے تک قتل و غارت گری جاری رہی۔

Image caption یہ مقدمہ 67 افراد کے خلاف دائر ہوا تھا لیکن مقدمے کی سماعت کے دوران چار لوگوں کی موت ہو چکی ہے

بچے، بوڑھے اور خواتین سابق رکن پارلیمان احسان جعفری کے دو منزلہ مکان میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ آخر میں احسان جعفری خود باہر آئے اور ہجوم سے کہا کہ وہ ان کی جان لے لیں لیکن بچوں اور عورتوں کو بخش دیں۔

مشتعل افراد انھیں گھسیٹ کر باہر لائے اور ان پر تشدد کر کے انھیں ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد ہجوم نے ان کے گھر کو بھی آگ لگا دی۔

فیروزگلزار خان پٹھان بھی حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ وہ سامنے والے گھر کی چھت سے سارا منظر دیکھ رہے تھے۔

’میری امی احسان جعفری کے گھر جا رہی تھیں۔ میری آنکھوں کے سامنے انھوں نے ماں کو قتل کر دیا۔ میرے ابو اور دو بھائیوں اور ایک بہن کو بھی وہیں مار ڈالا۔‘

اس حملے میں سعید خان کے خاندان کے دس ارکان ہلاک ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا: ’ہمیں انصاف چاہیے۔ اگر عدالت میں انصاف نہیں ملا تو اللہ انصاف کرے گا۔ لیکن مجھے لگتا ہے انصاف ہو گا۔‘

Image caption اس مقدمے کی سماعت کے دوران چار ججوں کے تبادلے ہو چکے ہیں اور 338 افراد کی گواہی شامل کی گئی ہے

اس دن سعید خان بھی احسان جعفری کے گھر میں پناہ لینے والوں میں سے تھے۔ وہ موت کے بہت نزدیک تھے لیکن وہ کچن کے پیچھے، دروازے کے ٹھیک باہر دیوار کی آڑ میں چھپے رہے۔ اپنی بیوی، ماں اور خاندان کے اہم ارکان کو قتل ہوتا دیکھتے رہے۔

’میں دیکھتا رہا۔ میری آنکھوں کے سامنے ہی میرا خاندان ختم ہو گیا۔‘

سعید خان کے مطابق کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ ’ماضی میں جو ہوا، اسے بھول جاؤ۔ اب آگے بڑھو،‘ لیکن ان کا جواب تھا کہ ’ کس طرح بھول جائیں؟ انصاف ہوگا تو بھول جائیں گے۔‘

ان کے وکیل ایس ایم ووہرا بھی ’بھول جاؤ‘ کا مشورہ دینے والوں سے ناراض ہیں۔ ’کسی کے خاندان کے دس افراد ہلاک ہو گئے اور کسی کے 14، آپ ان کو بھول جانے کا مشورہ کیسے دے سکتے ہیں؟‘

اس مقدمے کی سماعت کے دوران چار ججوں کے تبادلے ہو چکے ہیں اور 338 افراد کی گواہی شامل کی گئی ہے۔

اسی بارے میں