خمینی کی ’شیطانِ بزرگ‘ سے دوستی اور دشمنی

آیت اللہ خمینی اور امریکی صدر جمی کارٹر تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آیت اللہ خمینی اور امریکی صدر جمی کارٹر کے درمیان لمبے رابطے رہے

27 جنوری 1979 کو اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ خمینی نے، جو خود امریکہ کو ’شیطانِ بزرگ‘ کہتے تھے، واشنگٹن کو ایک خفیہ پیغام بھیجا تھا۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی نے اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ کو بڑے واضح الفاظ میں یہ پیغام بھی دیا تھا: کہ ایران کے فوجی رہنما تمہاری بات سنیں گے لیکن ایران کے عوام صرف میرا حکم مانیں گے۔

خمینی نے یہ تجویز دی تھی کہ اگر صدر کارٹر فوج پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ان کے اقتدار پر قبضے کو ہموار بنا دیں تو وہ قوم کو پرسکون کر دیں گے۔ استحکام قائم ہو سکتا ہے، ایران میں امریکی مفادات اور شہریوں کو تحفظ ملے گا۔

اس وقت ایران میں ایک واضح افراتفری تھی۔ مظاہرین اور فوجوں کے درمیان جھڑپیں ہو رہی تھیں، دکانیں بند تھیں اور پبلک سروسز معطل تھیں۔ اس کے علاوہ محنت کشوں کی طرف سے ہڑتالوں کی وجہ سے تیل کی ترسیل تقریباً بند ہو چکی تھی جو کہ مغرب کا ایک بڑا مفاد تھا۔

کارٹر کے قائل کرنے پر ایران کے آمر حکمران، محمد رضا شاہ پہلوی جو شاہ کے نام سے مشہور تھے، ’چھٹیاں گزارنے‘ کے لیے ملک سے چلے گئے اور اپنے پیچھے ایک غیر مقبول وزیرِ اعظم اور بکھری ہوئی فوج چھوڑ گئے۔ اس 400,000 افراد پر مشتمل فوج کا زیادہ تر انحصار امریکی اسلحے اور مشاورت پر تھا۔

خمینی کو خوف تھا کہ فوج کی اعلیٰ قیادت ان سے نفرت کرتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ پریشانی کی بات یہ تھی کہ وہ امریکی فضائیہ کے ایک رابرٹ ای ہیوئزر نامی جنرل کے ساتھ روزانہ ملاقاتیں کرتے تھے، جنھیں صدر کارٹر نے ایک پراسرار مشن پر تہران بھیجا تھا۔

آیت اللہ 15 برس جلا وطن رہنے کے بعد وطن واپس آنے کے لیے پر عزم تھے اور چاہتے تھے کہ شاہ کی چھٹیاں مستقل ہو جائیں۔ اس لیے انھوں نے ایک ذاتی درخواست کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption امریکہ شاہ ایران کی حمایت بھت کرتا تھا اور خمینی سے رابطہ بھی رکھتا تھا

انھوں نے اپنے پہلے پیغام میں وائٹ ہاؤس کو کہا کہ وہ اس اہم اتحادی کے جانے پر پریشان نہ ہو جس کے اس کے ساتھ 37 سال سے تعلقات ہیں۔ انھوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ وہ بھی ان کے دوست رہیں گے۔

خمینی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’آپ دیکھیں گے کہ ہماری امریکیوں سے کوئی خاص دشمنی نہیں ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ کی بنیاد ’انسانی ہمدردی پر قائم کی جائے گی، جس سے ساری انسانیت کے امن اور سکون کو فائدہ پہنچے گا۔‘

آیت اللہ خمینی کے پیغام کا یہ حصہ امریکی حکومت کے ڈیکلاسیفائڈ ہونے والے تازہ دستاویزات میں موجود ہے۔ یہ دستاویزات سفارتی پیغامات، پالیسی میموز اور میٹنگز کے ریکارڈز پر مشتمل ہیں جو امریکہ کے خمینی کے ساتھ خفیہ رابطوں کے متعلق بتاتے ہیں۔

ان سے اس بات کا بھی تفصیلی ریکارڈ ملتا ہے کہ کس طرح خمینی نے امریکہ کی طرف احترام اور فرمانبرداری کی زبان استعمال کرتے ہوئے اپنی ایران واپسی کو یقینی بنایا تھا۔ اس سے پہلے کبھی اس کے متعلق نہیں بتایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خمینی کو ہمیشہ خدشہ رہا کہ امریکہ ان کے خلاف شاہ کی مدد کر سکتا ہے

آیت اللہ کا پیغام در حقیقت ان کے چیف آف سٹاف اور امریکی حکومت کے درمیان فرانس میں دو ہفتے جاری رہنے والے براہِ راست مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ اس عمل سے خمینی کے ایران واپس آنے میں کافی مدد ملی تھی۔

ایران کے انقلاب کے سرکاری بیانیہ کے مطابق خمینی نے امریکہ کی جارحانہ انداز میں مخالفت کی تھی اور شاہ کو اقتدار میں رکھنے کی ’شیطانِ بزرگ‘ کی کوششوں کو شکست دی تھی۔

٭ مزید تفصیل کے لیے بی بی سی نیوز کی یہ رپورٹ پڑھیے

لیکن دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ خمینی امریکہ کے ساتھ اس سے بہت زیادہ رابطے میں تھے جتنا کہ دونوں حکومتیں تسلیم کرتی ہیں۔ امریکہ کی مخالفت کی بات تو دور آیت اللہ کارٹر انتظامیہ سے پینگے بڑھا رہے تھے، ایسے اشارے کر رہے تھے کہ وہ ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ کو اس طرح پیش کر رہے تھے کہ وہ امریکی مفادات کے لیے بہتر ہے۔

آج تک کارٹر انتظامیہ کہتی رہی ہے کہ واشنگٹن شاہِ ایران اور ان کی حکومت کی پشت پناہی کر رہی تھا۔

لیکن دستاویزات کے مطابق شاہ کے ایران چھوڑنے کے دو دن بعد ہی امریکہ نے خمینی کو بتایا دیا تھا کہ وہ اصولی طور پر ایران کے آئین میں ترمیم کے خیال کے لیے تیار ہیں جس سے حتمی طور پر بادشاہت ختم ہو جانی تھی۔ اور انھوں نے آیت اللہ کو ایک اہم اطلاع بھی دی تھی کہ ایران کی فوج کے رہنما ملک کے سیاسی مستقبل کے متعلق لچک رکھتے تھے۔

چار دہائیوں پہلے امریکہ اور خمینی کے درمیان جو ہوا وہ صرف ایک سفارتی تاریخ نہیں تھی۔ امریکہ کی آج تک یہ خواہش رہی ہے کہ وہ جنھیں اسلامی جمہوریہ ایران میں موجود حقیقت پسندانہ عناصر سمجھتا ہے ان سے سودے بازی کرتا رہے۔

حال ہی میں سامنے آنے والے سی آئی اے کے دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نومبر 1963 میں خمینی نے تہران میں اپنی گھر میں نظر بندی کے دوران کینیڈی انتظامیہ کو حمایت کا ایک پیغام بھیجا تھا۔

سنہ 2008 میں سامنے آنے والے 1980 کے سی آئی اے کے ایک تجزیے کے مطابق جس کا ٹائٹل ’ایران میں اسلام‘ تھا خمینی نے واضح کیا تھا کہ وہ ایران میں امریکی مفادات کے خلاف نہیں ہیں۔

خمینی نے امریکہ کو بتایا تھا کہ وہ امریکی موجودگی کو ضروری سمجھتے ہیں تاکہ سویت اور برطانوی اثر کو کم کیا جا سکے۔

سفارتخانے کی وہ کیبل جس میں خمینی کا مکمل پیغام ہے ابھی تک کلاسیفائیڈ ہے اور خفیہ رکھی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption خفیہ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ خمینی کس طرح امریکہ کو پیغام بھیجتے تھے

یہ معلوم نہیں کہ صدر کینیڈی نے یہ پیغام کبھی دیکھا بھی تھا کہ نہیں کیونکہ دو ہفتے بعد انھیں ٹیکساس میں قتل کر دیا گیا تھا۔

ایک سال بعد خمینی کو ایران سے نکال دیا گیا۔ اس مرتبہ انھوں نے شاہ پر نیا حملہ کیا تھا جو کہ ایران میں موجود امریکی فوجیوں کو عدالتی استثنیٰ میں توسیع دینے کے خلاف تھا۔

انھوں نے جلا وطنی سے کچھ پہلے اعلان کیا تھا کہ ’امریکی صدر کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان سے ہماری قوم سب سے زیادہ نفرت کرتی ہے۔‘

پندرہ برس بعد خمینی پیرس پہنچ گئے۔ وہ ایران میں نئی تحریک کے رہنما تھے جو بادشاہت کو ختم کرنے والی تھی۔ انھیں فتح کے اتنا قریب ہونے کے باوجود امریکہ کی ضرورت تھی۔

خمینی نے ایک مرتبہ امریکیوں کے اس خدشے کو دور کرتے ہوئے واشنگٹن بھیجے گئے ایک پیغام میں لکھا تھا کہ ’جو بھی ہم سے صحیح قیمت پر تیل خریدا گا ہم اسے بیچیں گے۔‘

’اسلامی جمہوریہ قائم ہونے کے بعد دو ممالک، جنوبی افریقہ اور اسرائیل، کے علاوہ (سب کے لیے) تیل کا بہاؤ جاری رہے گا۔‘

پیغام میں خمینی نے لکھا کہ ’ملک کی ترقی کے لیے ایران کو دوسروں کی امداد کی ضرورت ہے، خصوصاً امریکیوں کی۔‘

اسی بارے میں